ٹرمپ کے دباؤ پر اسرائیل کا ایران کی توانائی کی تنصیبات پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کا اعلان

صدر ٹرمپ نے ہم سے آئندہ حملوں کو روکنے کے لیے کہا ہے، اور ہم ایسا ہی کر رہے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم
شائع 20 مارچ 2026 09:11am

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں نیتن یاہو نے انکشاف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کے اہم توانائی کے تنصیبات پر حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے، جس پر اسرائیل عمل کرے گا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی شب پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے منسلک ایک پروسیسنگ فیسلٹی پر حملہ اسرائیل نے اکیلے کیا۔ یہ گیس فیلڈ دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہم سے آئندہ حملوں کو روکنے کے لیے کہا ہے، اور ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔

یہ حملہ جاری جنگ میں ایک بڑی شدت کا باعث بنا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل ایران کے متعدد ایندھن ڈپوؤں کو نشانہ بنا چکا تھا، تاہم اب تک اس نے ایران کی تیل اور قدرتی گیس کی پیداواری تنصیبات پر حملوں سے گریز کیا تھا۔

۔

اس کے ردعمل میں ایران نے پڑوسی خلیجی ممالک میں واقع اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قطر کے مرکزی توانائی مرکز راس لفان پر وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا تھا، جیسا کہ قطری حکام نے بتایا تھا۔

حملوں کے فوری بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ راس لفان میں ہونے والا نقصان عالمی سطح پر گیس کی طویل مدتی قلت کا سبب بن سکتا ہے۔

نیتن یاہو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل ایران سے منسلک اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں ممکنہ خلل کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔