چار ہزار کلو میٹر تک میزائل رینج: ایران کے امریکی و برطانوی اڈے ڈئیگو گارسیا پر حملے نے دنیا کو چونکا دیا
ایران کی جانب سے بحرِ ہند میں واقع ایک اہم فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ڈئیگو گارسیا میں قائم مشترکہ امریکی و برطانوی فوجی اڈے کی طرف فائر کیے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ ایک میزائل پرواز کے دوران ہی ناکام ہو گیا، جبکہ دوسرے کو روکنے کے لیے ایک امریکی جنگی بحری جہاز سے ایس ایم-3 انٹرسیپٹر میزائل فائر کیا گیا۔
تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ میزائل کامیابی سے تباہ کیا گیا یا نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا۔
اس معاملے پر فوری طور پر وائٹ ہاؤس، واشنگٹن میں برطانوی سفارت خانے اور برطانیہ کی وزارتِ دفاع کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث اس واقعے کی تفصیلات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔
ڈئیگو گارسیا بحرِ ہند میں چاگوس جزائر کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اسے امریکا اور برطانیہ ایک اہم فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
یہ اڈہ ایشیا میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے لیے ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ماضی میں افغانستان اور عراق میں امریکی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔
معروف تجزیہ کار ماریو نوفال کے مطابق ایران کی جانب سے اس حملے کی کوشش نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کے میزائلوں کی رینج پہلے کے اندازوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کے میزائل نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ اس سے کہیں دور علاقوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماریو نوفال نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ”ایران نے ابھی ثابت کیا کہ اس کے میزائل مشرق وسطیٰ سے بہت آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایران نے ڈئیگو گارسیا پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے، جو بحر ہند کے وسط میں چار ہزار کلومیٹر دور واقع امریکا اور برطانیہ کا مشترکہ فوجی اڈہ ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ”کوئی بھی میزائل اڈے پر نہیں لگا، لیکن ایران کا پیغام کسی بھی وار ہیڈ سے زیادہ شدت سے پہنچا۔“
ماریو نوفال کا کہنا تھا کہ ”تہران نے ہمیشہ عوامی طور پر دعویٰ کیا ہے کہ اس کے میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج دو ہزار کلومیٹر ہے۔اس حملے کی کوشش نے راتوں رات اس تعداد کو دوگنا کر دیا۔ خرم شہر-4 جو ممکنہ طور پر اس حملے میں استعمال ہوا وہ کلسٹر وار ہیڈز بھی پہنچا سکتا ہے، یہ وہی گولہ بارود ہے جو تین ہفتوں سے اسرائیلی شہروں کو تباہ کر رہا ہے۔“
ان کا مزید کہنا تھا کہ ”تہران سے چار ہزار کلومیٹر کی رینج ثابت کرتی ہے کہ میزائل پیرس، لندن اور زیادہ تر یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ نیٹو کا ہر دارالحکومت جس کا خیال تھا کہ یہ جنگ مشرق وسطیٰ کا ایک دور دراز مسئلہ ہے، اسے ابھی احساس ہوا ہے کہ ایرانی میزائل نظریاتی طور پر ان کی دہلیز تک پہنچ سکتے ہیں۔“













