کتنا لمبا جئیں گے؟ جسم کی ایک سادہ پیمائش سے عمر کا اندازہ ممکن

پنڈلی کا سائز زندگی کی مدت کا اشارہ دے سکتا ہے: نیورولوجسٹ کا دعویٰ
شائع 25 مارچ 2026 02:59pm

عام طور پر صحت اور لمبی زندگی کا اندازہ وزن یا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) سے لگایا جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین اب ایک نئے اور سادہ پیمانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اور وہ یہ کہ انسان کی پنڈلیوں کا گھیراؤ یہ بتا سکتا ہے کہ زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے اور بڑھاپے میں صحت کی حالت کیسی رہے گی۔

نیورولوجسٹ ڈاکٹر سدھیر کمار حیدرآباد بھارت کے اپولو ہسپتال سے وابستہ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں وضاحت کی ہے کہ عام طور پر لوگ صحت کو جانچنے کے لیے وزن یا باڈی ماس انڈیکس پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اصل اشارہ جسم کے نچلے حصے یعنی پنڈلیوں میں موجود پٹھوں کی مقدار میں چھپا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں کمی دراصل جسم میں پٹھوں کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے جسے طبی زبان میں سارکوپینیا کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت جسمانی کمزوری، بیماری کے دوران پیچیدگیوں اور بڑھاپے میں زیادہ کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات اہم ہے کہ صرف وزن ٹھیک ہونا ہمیشہ اچھی صحت کی ضمانت نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر سدھیر کمار نے مختلف طبی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنڈلی کے کم سائز اور زیادہ شرح اموات کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض بڑے سائنسی تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کی پنڈلی چھوٹی ہوتی ہے ان میں خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ موت کے خطرے میں تقریباً پانچ فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔

انہوں نے مردوں اور عورتوں کے لیے ایک عمومی معیار بھی بتایا جس کے مطابق اگر مردوں میں پنڈلی کا گھیراؤ 34 سینٹی میٹر سے کم ہو اور خواتین میں 33 سینٹی میٹر سے کم ہو تو یہ کمزوری اور زیادہ صحت کے خطرات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد میں گرنے، فریکچر اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرِ اعصاب کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے پٹھے قدرتی طور پر کم ہونے لگتے ہیں، لیکن اس عمل کو سست یا روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے طاقت بڑھانے والی ورزشیں، خاص طور پر ویٹ ٹریننگ، بہت ضروری ہیں۔

نیورولوجسٹ ڈاکٹر کمار کا کہنا ہے کہ پٹھوں کی مضبوطی صرف خوبصورتی یا فٹنس کا معاملہ نہیں بلکہ یہ صحت مند اور طویل زندگی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ صحت کا اندازہ صرف وزن یا ترازو پر موجود عدد سے نہیں لگایا جانا چاہیے، بلکہ جسم میں پٹھوں کی حالت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ مضبوط پنڈلیاں نہ صرف جسمانی طاقت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ یہ طویل اور صحت مند زندگی کی ایک اہم علامت بھی ہو سکتی ہیں۔

ان معلومات پر جہاں کچھ لوگوں نے مثبت ردِ عمل دیا ہے وہیں صارفین مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے، کیونکہ ان دعووں کی کوئی توثیق یا تحقیق موجود نہیں۔

صارفین کا کہنا ہے کہ صرف پنڈلی کا سائز دیکھ کر یہ کہنا کہ کوئی شخص زیادہ یا کم عمر جئے گا، یہ بات سائنسی طور پر یا حتمی طور پر ثابت نہیں۔ صحت اور عمر پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جیسے دل کی صحت، خوراک، جینیات، ورزش، بیماریوں کی تاریخ وغیرہ۔ اس لیے پنڈلی کا سائز ایک مددگار اشارہ ہو سکتا ہے، مگر اس وقت تک فیصلہ کن یا واحد معیار نہیں مانا جاسکتا جب تک اس پر تحقیق نہ کی جائے۔