ایران نے امریکیوں کے شکار کے لیے خارگ جزیرے پر مہلک جال بچھا دیا

خارگ پر قبضے کی کوشش امریکا کے لیے کتنی خطرناک ہو سکتی ہے؟
شائع 26 مارچ 2026 11:43am

خلیج فارس میں واقع ایران کا اہم خارگ جزیرہ اس وقت بڑے ممکنہ فوجی تصادم کی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ ایران نے اپنے اس اہم جزیرے کی حفاظت کے لیے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ ایران نے جزیرے پر اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو بھی مزید فعال بنایا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ امریکا اس جزیرے پر قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔

خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات یہیں سے ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

تاہم امریکی حکام اور فوجی ماہرین اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے جزیرے پر تہہ در تہہ دفاعی نظام قائم کر رکھا ہے، جس میں کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایران نے جزیرے کے اطراف میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں، جہاں امریکی فوج ممکنہ طور پر سمندر کے راستے آکر اتر سکتی ہے۔

امریکی فوج اس سے قبل 13 مارچ کو خارگ جزیرے پر حملے کر چکی ہے، جن میں تقریباً 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں بارودی سرنگوں کے ذخیرے، میزائل بنکرز اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تیل کی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔

دوسری جانب بعض امریکی اتحادی اور ماہرین اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا جزیرے پر قبضہ کرنا واقعی مسئلے کا حل ہوگا یا نہیں، کیونکہ اس سے آبنائے ہرمز کی صورتحال فوری طور پر بہتر نہیں ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اسرائیلی ذرائع نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکا نے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ایران ڈرونز اور میزائل حملوں کے ذریعے شدید ردعمل دے سکتا ہے، جس سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

ایران کی قیادت نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے ایرانی جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

فوجی ماہرین کے مطابق خارگ جزیرہ سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود اسٹریٹیجک لحاظ سے نہایت اہم ہے، اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے امریکا کو بڑی تعداد میں فوجی اور بحری وسائل تعینات کرنے ہوں گے۔

سی این این کا کہنا ہے کہ امریکی میرینز کے خصوصی یونٹس اور ایئر بورن ڈویژن کے اہلکار خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، جو ایسی کارروائیوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

خلیجی ممالک بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور امریکا کو خبردار کر رہے ہیں کہ زمینی کارروائی سے جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے اور پورے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس کے بجائے ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا زیادہ اہم ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ایک متبادل راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا جزیرے کے اردگرد بحری ناکہ بندی کر دے تاکہ ایران کی تیل برآمدات روکی جا سکیں، اس طرح زمینی حملے کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں خارگ جزیرہ ایک حساس فوجی اور معاشی محاذ بن چکا ہے، جہاں کسی بھی بڑے فیصلے کے دور رس اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔