ایران جنگ: دنیا بھر میں ’ایم آر آئی‘ اسکینز میں تاخیر کا خدشہ

اس تنازع کے نتیجے میں عالمی ہیلیم سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ متاثر ہو چکا ہے
شائع 26 مارچ 2026 03:29pm

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے درمیان ایک ایسا بحران پیدا ہو گیا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ یہ بحران ہے ہیلیم گیس کی قلت کا، جو بیک وقت طبی شعبے اور جدید ٹیکنالوجی دونوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اس تنازع کے نتیجے میں عالمی ہیلیم سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ متاثر ہو چکا ہے، جس کی بڑی وجہ قطر کی پیداوار میں کمی اور خلیج میں اہم بحری راستوں کی بندش ہے۔

ہیلیم ایک عام گیس نہیں بلکہ ایک خاص عنصر ہے جو انتہائی کم درجہ حرارت پر بھی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ میگنیٹک ریسولنس امیجنگ (ایم آر آئی) مشینوں، سیمی کنڈکٹر چپس اور دیگر حساس آلات میں استعمال ہوتا ہے۔

اگر ہیلیم نہ ہو تو نہ صرف جدید اسپتالوں میں تشخیص کا نظام متاثر ہو سکتا ہے بلکہ موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانکس کی تیاری بھی سست پڑ سکتی ہے۔

اس بحران کی جڑ خلیج کا وہ اہم سمندری راستہ ہے جسے آبنائے ہرمز کہا جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی توانائی اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے، جس کے باعث قطر سے ہیلیم کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ایران نے اگرچہ مکمل بندش کی تردید کی ہے، مگر یہ شرط رکھ دی ہے کہ ہر جہاز کو گزرنے سے پہلے اس کی اجازت لینا ہوگی، جس سے عالمی تجارت سست ہو گئی ہے۔

قطر، جو دنیا کے بڑے ہیلیم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، سالانہ تقریباً 63 ملین مکعب میٹر ہیلیم پیدا کرتا ہے، جو عالمی پیداوار کا ایک بڑا حصہ ہے۔

ہیلیم دراصل ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس کی پیداوار کے دوران بطور ضمنی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

حالیہ حملوں میں قطر کے صنعتی علاقوں راس لفان اور میسعید میں واقع توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد قطر انرجی نے گیس کی پیداوار روک دی ہے۔

اس کے نتیجے میں ہیلیم کی برآمدات میں سالانہ 14 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

ہیلیم کی ترسیل بھی ایک پیچیدہ عمل ہے۔ چونکہ یہ گیس بہت ہلکی ہوتی ہے، اس لیے اسے مائع شکل میں انتہائی کم درجہ حرارت پر محفوظ کیا جاتا ہے اور خاص کنٹینرز میں سمندر کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔

یہ کنٹینرز زیادہ سے زیادہ 45 دن تک ہی محفوظ رہ سکتے ہیں، اس کے بعد ہیلیم دوبارہ گیس بن کر ضائع ہونے لگتی ہے۔ اس لیے ترسیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر براہ راست نقصان کا باعث بنتی ہے۔

اس بحران کے اثرات خاص طور پر ایشیائی ممالک پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔

جاپان، جنوبی کوریا، چین اور تائیوان جیسے ممالک ہیلیم کے بڑے خریدار ہیں اور خاص طور پر سیمی کنڈکٹرز کے لیے ہیلیم خریدتے ہیں۔

ہیلیم کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس کا کوئی مکمل متبادل موجود نہیں۔ اگرچہ سائنس دان متبادل ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں، جیسے ہیلیم فری ایم آر آئی مشینیں یا ری سائیکلنگ سسٹم، مگر فی الحال دنیا کا زیادہ تر نظام اسی گیس پر انحصار کرتا ہے۔

دنیا میں امریکا سب سے بڑا ہیلیم پیدا کرنے والا ملک ہے، مگر اس کے باوجود وہ بھی مکمل طور پر خود کفیل نہیں اور خلیجی سپلائی پر انحصار کرتا ہے۔

امریکا کی بڑی کمپنیوں جیسے ایگزون موبل اور ایئر لکویڈ نے بھی سپلائی میں کمی اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بحران صرف ایک گیس کی کمی نہیں بلکہ عالمی معیشت، صحت کے نظام اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔