امریکا کی جنگ بندی کی تجویز پر ایران کا جواب
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کا جواب دے دیا ہے، جس میں حملے بند کرنے، نقصانات کی تلافی اور تمام محاذوں پر امن قائم رکھنے پر زور دیا گیا۔ ایران نے جواب میں آبنائے ہرمز پر حاکمیت کے حق کو اجاگر کیا اور امریکی مذاکرات کے دعوؤں کو فریب قرار دیا اور عالمی برادری کو واضح کیا ہے کہ وہ اپنے شہری اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کو ایک باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بدھ کی شب امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجویز کا باقاعدہ جواب بھیج دیا ہے، تہران اب امریکی ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ دشمن کے حملوں اور قتل و غارت کے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں، جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کے لیے ٹھوس اور قابل عمل شرائط طے کی جائیں اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی اور معاوضے کی ضمانت دی جائے۔
ایران نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کے عمل کو تمام محاذوں اور تمام مزاحمتی گروپوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جائے تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی قانونی اور فطری حاکمیت کے حق کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے اور کہا کہ یہ حق تسلیم کرنا لازمی ہے تاکہ دوسری پارٹی اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کرے۔ ایران کے مطابق یہ شرائط جنیوا میں حالیہ جوہری مذاکرات کے دوران طے شدہ مطالبات سے مختلف اور آزاد ہیں۔
مزید برآں، ذرائع نے خبردار کیا کہ ایران کے نزدیک امریکی دعوے مبنی بر مذاکرات درحقیقت ایک تیسرا فریب ہیں، جس کے ذریعے امریکا کئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے:
- عالمی سطح پر پرامن تاثر قائم کرنا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔
- عالمی تیل کی قیمتوں کو کم رکھنا۔
- ایران کے جنوبی علاقے میں زمینی حملے کے لیے وقت حاصل کرنا۔
نیوز ایجنسی تسنیم کو ذرائع نے کہا کہ ایران اب مکمل طور پر شبہ رکھتا ہے کہ امریکا کسی بھی وقت سنجیدہ مذاکرات پر تیار ہے، کیونکہ پچھلی 12 روزہ جنگ کے دوران اور موجودہ تنازع میں بھی امریکی کارروائیاں مذاکرات کے بہانے شروع کی گئیں۔ اس بار بھی امریکا ممکنہ طور پر مذاکرات کو بہانہ بنا کر نئے جارحانہ اقدامات کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔
قبل ازیں، امریکی صدرٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کو مذاکرات کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، انھوں نے بیان میں کہا کہ ایران عسکری طور پر مکمل طور پر کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس واپسی کا کوئی امکان نہیں، اس کے باوجود وہ عوامی سطح پر صرف امریکی تجویز کا جائزہ لینے کی بات کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں برس 6 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی دارالحکومت مسقط میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جس میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر شریک ہوئے تھے۔
مذاکرات کے پہلے دور کے بعد کچھ پیش رفت ہوئی، لیکن جیسے ہی یہ عمل آگے بڑھا، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر تہران سمیت ایران کے متعدد علاقوں پر حملے کیے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوئیں۔
مزید حملوں میں ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل تھے۔ بعدازاں پئے در پئے حملوں کے دوران 17 اور 18 مارچ کے درمیان ایران نے قومی سلامتی کے مشیرعلی لاریجانی کی بھی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی تھی۔
اسرائیلی حملوں میں علی لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ، نائب سیکیورٹی افسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ہمراہ شہید ہوئے۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں دفاعی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
حالیہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا موجودہ جواب صرف بیان نہیں بلکہ عملی زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایران اپنے شہری اور علاقائی مفادات کے تحفظ، امن قائم رکھنے اور دشمن کے غیر قانونی حملوں کا جواب دینے کے لیے عملی طور پر تیار ہے، جب کہ عالمی برادری کو واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایران کی حاکمیت اور دفاعی حقوق غیر مشروط ہیں۔













