اسرائیل کے ایران کی جوہری اور صنعتی تنصیبات پر حملے

ایرانی حکام کے مطابق حملوں کے باوجود کسی قسم کا تابکار اخراج نہیں ہوا، تاہم متعدد صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
اپ ڈیٹ 28 مارچ 2026 12:05am

اسرائیل نے ایران کی اہم جوہری اور صنعتی تنصیبات پر فضائی حملے کر دیے، جن میں اراک کا ہیوی واٹر پلانٹ، اردکان کی یورینیم پراسیسنگ سائٹ اور بڑی اسٹیل فیکٹریاں شامل ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق حملوں کے باوجود کسی قسم کا تابکار اخراج نہیں ہوا، تاہم متعدد صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی میڈیا ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کے روز اس کی فضائیہ نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں وسطی ایران کے شہر اراک میں واقع ہیوی واٹر پلانٹ شامل ہے۔ اسرائیلی بیان میں اس تنصیب کو جوہری ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم کی پیداوار کا اہم مرکز قرار دیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ ایران کی جانب سے اس مقام کی دوبارہ تعمیر کی کوششیں جاری تھیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جون 2025 کی جنگ کے دوران بھی اسی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو خنداب ہیوی واٹر ریسرچ ری ایکٹر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے اس تنصیب کی بار بار بحالی کی کوششوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد اسے دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔ حملے سے قبل اسرائیلی فوج نے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ بھی جاری کی تھی۔ اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حالت میں بھی یہ ہیوی واٹر نیوٹرون سورس کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ مرکازی میں اراک کے قریب واقع خنداب ہیوی واٹر کمپلیکس کو دو مراحل میں نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع ملی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بتایا کہ صوبہ یزد کے شہر اردکان میں یورینیم پراسیسنگ کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملہ اس تنصیب کے بنیادی ڈھانچے پرکیا گیا، جو یورینیم افزودگی کے عمل میں استعمال ہوتا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ حملہ امریکی- صہیونی دشمن کی جانب سے کیا گیا، تاہم اس کے نتیجے میں کوئی تابکار اخراج نہیں ہوا۔

یہ حملے اس کشیدگی میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جس میں ایران کے وسطی علاقوں میں متعدد اسٹریٹجک مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں دو بڑی اسٹیل فیکٹریاں بھی متاثر ہوئیں، جن میں جنوب مغرب میں خوزستان اسٹیل اور اصفہان میں مبارکہ اسٹیل پلانٹ شامل ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مبارکہ کمپلیکس میں بجلی کے سب اسٹیشن اور الائے اسٹیل کی پیداوار لائن کو بھی نقصان پہنچا، جب کہ خوزستان پلانٹ میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا۔ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں نے ایران کی دو بڑی اسٹیل فیکٹریوں، ایک پاور پلانٹ اور شہری جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ ان کارروائیوں میں اسے امریکی تعاون حاصل تھا، تاہم یہ حملے صدر ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات کے مؤخر کردہ شیڈول کے خلاف ہیں۔

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اسرائیلی جرائم کا بھاری حساب لے گا اور اس کے نتائج سے عالمی برادری کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ ان حملوں سے نہ صرف صنعتی اور توانائی کے شعبے متاثر ہوئے ہیں بلکہ یہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بھی بنیں گے۔

پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر سید مجید موسوی نے بھی ایران کے صنعتی مراکز پر حملوں کے بعد ایک سخت بیان جاری کیا ہے، جس میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا گیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آپ نے ہمیں پہلے بھی آزمایا، دنیا نے دیکھا کہ آپ نے خود آگ سے کھیلنا شروع کیا اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ موسوی نے مزید کہا کہ اس بار ردعمل مختلف ہوگا اور یہ اب آنکھ کے بدلے آنکھ نہیں ہوگا، انتظار کریں اور دیکھیں۔

انہوں نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ صنعتی کمپنیوں کے ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جانوں کو خطرے سے بچانے کے لیے فوری طور پر اپنے کام کی جگہیں چھوڑ دیں۔