اسرائیلی حکومت اور فوج کا زوال قریب ہے: ایرانی رہنما باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کی حکومت اور فوج زوال کی جانب گامزن ہے اور ایران اس عمل کو مزید تیز کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں باقر قالیباف نے اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ مسلسل لڑائی کے نتیجے میں فوج اندر سے کمزور ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کابینہ اجلاس میں 10 خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج شدید دباؤ کا شکار ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ اسرائیل ایران کے صنعتی بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرکے کشیدگی میں اضافہ، اپنی نااہل کابینہ اور فوج کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے ایران کے جوابی اقدامات کو اس سلسلے میں فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی کارروائیاں اسرائیلی فوج اور حکومت کے ممکنہ زوال کی رفتار کو تیز کر دے گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ اسرائیل سمیت خطے میں امریکی تنصیبات پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لبنان اور عراق کی مزاحمتی تنظمیوں کے بعد اب یمن کے حوثی باغیوں بھی اس جنگ میں شامل ہوچکے ہیں۔
حوثی باغیوں نے اس سے قبل غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے میزائل کیے تھے، تاہم اکتوبر 2025 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ حملے بند ہو گئے تھے۔
رواں جنگ کے دوران ہفتے کے روز حوثیوں نے اسرائیل پر پہلا میزائل حملہ کر کے جنگ میں براہِ راست شمولیت اختیار کی ہے۔













