ایران کا بحرین اور یو اے ای کے ایلومینیم پلانٹس پر حملہ کتنا اہم ہے؟
خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ایلومینیم پلانٹس پر حملے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ اندازوں کے مطابق عالمی ایلومینیم سپلائی کا تقریباً چار سے نو فیصد حصہ اسی خطے سے آتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایران کی جانب سے یہ حملہ اسی روز کیا گیا جب اسرائیل نے ایران میں دو اسٹیل پلانٹس کو نشانہ بنایا۔
اس پیش رفت سے جاری جنگ میں سامنے آنے والی ایک واضح حکمتِ عملی کی عکاسی ہوتی ہے، جسے ’جوابی وار‘ یا ٹِٹ فار ٹیٹ حکمتِ عملی کہا جا رہا ہے۔
اس کے تحت ایران ان ہی نوعیت کے اہداف کو نشانہ بناتا ہے جنہیں اس کی سرزمین پر نشانہ بنایا جاتا ہے، اور خلیجی عرب خطے میں امریکی مفادات سے وابستہ تنصیبات کو جواباً ہدف بناتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اسی رفتار سے حملے کا جواب حملے سے دیتا رہا تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران پر حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے اتوار کے روز متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ایلومینیم کے بڑے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ہوئے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارخانے خطے میں امریکی فوج اور خلائی شعبے سے وابستہ تھے۔
دوسری جانب خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں آج صبح اٹھنے والے افراد کے لیے ایک اور باعثِ تشویش خبر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے سامنے آئی، جس میں بتایا گیا کہ ہزاروں امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں۔
تقریباً 3 ہزار 500 اضافی اہلکار یو ایس ایس ٹریپولی کے ذریعے خطے میں تعینات کیے گئے ہیں، جن میں بحریہ کے اہلکار اور میرینز شامل ہیں۔














