پاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی، ٹرمپ کا ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور معاہدے کا اشارہ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکا کی ”براہِ راست اور بالواسطہ“ ملاقاتیں جاری ہیں اور ایران کی نئی قیادت کا رویہ کافی حد تک معقول نظر آتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے دونوں حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت میں ایک ماہ سے جاری اس جنگ کو ختم کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات پر فخر ہوگا کہ وہ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کی سہولت فراہم کرے۔
اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں فریقین نے اس اجلاس میں شرکت کی باضابطہ حامی بھری ہے یا نہیں، لیکن صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کی شام واشنگٹن جاتے ہوئے ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے ہم ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں گے، مجھے اس ہر کافی حد تک یقین ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ایسا نہ کر پائیں۔‘
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تہران میں گزشتہ حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے بعد امریکا پہلے ہی وہاں نظام کی تبدیلی (رجیم چینج) کا مقصد حاصل کر چکا ہے، تاہم انہوں نے دو بار اس بات کا ذکر کیا کہ ان کی جگہ آنے والے نئے لوگ ”معقول“ لگتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکی اسپیشل آپریشن فورسز کی بڑی تعداد مشرق وسطیٰ پہنچ چکی ہے اور ایران کے حوالے سے ایک ممکنہ فوجی کارروائی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایسی کسی کارروائی میں امریکی افواج کو نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز ایران میں ہزاروں ممکنہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اس حوالے سے منصوبہ بندی جاری ہے۔
جس پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر دوغلی پالیسی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف واشنگٹن مذاکرات کے پیغامات بھیج رہا ہے اور دوسری طرف ایران پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
انہوں نے قوم کو پیغام دیا کہ ایران کبھی بھی ذلت قبول نہیں کرے گا اور اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پینٹاگون نے حالیہ دنوں میں ہزاروں مزید فوجی مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے ہیں، جس سے زمینی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اس جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔
ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان ہے اور عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی کساد بازاری کا خوف بڑھ رہا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں کی جنگ میں شمولیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے کیونکہ اب بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہیں بھی خطرے میں ہیں۔
ادھر اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کی خبروں کے باوجود ایران پر اپنے حملے کم نہیں کرے گا۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائیہ نے تہران اور دیگر شہروں میں 140 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں میزائل لانچنگ پیڈز اور ایئرپورٹس شامل ہیں۔
اسی طرح ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل کے جنوبی علاقے میں ایک کیمیکل پلانٹ کو نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد عوام کو زہریلے مواد سے بچنے کے لیے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی صدر نے اتوار کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ امریکا ایران کے تیل کے وسائل پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور خلیج میں واقع اہم جزیرے ’خارگ‘ پر قبضہ بھی ممکنہ طور پر امریکی حکمت عملی کا حصہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اس اجازت میں کردار ادا کیا۔














