صحافیوں پر حملے، اسرائیلی آرمی چیف نے پوری بٹالین معطل کر دی

صحافیوں پر تشدد کے اس واقعے پر بین الاقوامی سطح پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اپ ڈیٹ 30 مارچ 2026 09:56am

اسرائیلی فوج کے آرمی چیف نے مقبوضہ مغربی کنارے میں امریکی نیوز چینل ’سی این این‘ کی ٹیم پر حملے اور بدسلوکی کے واقعے پر اسرائیلی آرمی چیف جنرل ایال ضمیر نے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔

سی این این کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں صحافیوں پر تشدد کے واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی پوری بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے کوریج روکنے کے لیے صحافیوں پر حملہ کیا، اس دوران ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبا کر اسے زمین پر گرا دیا، جس سے ان کا کیمرا بھی ٹوٹ گیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ فوجیوں کا یہ رویہ عسکری ضابطہ اخلاق اور پیشہ ورانہ معیار کے خلاف تھا، جس کی وجہ سے پوری یونٹ کو فوری طور پر آپریشنل ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

متاثرہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں دو گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور اس دوران ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی۔

اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی آرمی چیف نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ فوج کے اندر ایسے پرتشدد رویوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق، پوری بٹالین کی معطلی کا یہ فیصلہ اس عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے جو امریکی میڈیا ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے اس سنگین واقعے کے بعد پیدا ہوا۔