معاہدہ نہ ہوا تو ایران کی توانائی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ٹرمپ کی سخت دھمکی

امریکی صدر نے مذاکرات میں پیش رفت اور معاہدے کے امکانات کا بھی اظہار کیا۔
اپ ڈیٹ 30 مارچ 2026 05:47pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے معاہدے کے امکانات روشن ہیں اور مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے حوالے سے ایک نئے اور زیادہ معقول نظام کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے اور امکان ہے کہ جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔

صدرٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری مذاکرات دانش مندانہ قیادت کے ساتھ ہو رہے ہیں اور امریکا اس تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ فریقین جلد کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

تاہم امریکی صدر نے اپنے بیان میں سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی وجہ سے معاہدہ نہ ہو سکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ان میں بجلی گھر، تیل کے کنویں، جزیرہ خارگ اور دیگر اہم انفراسٹرکچر شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ان تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا، لیکن امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے ردعمل میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے سابقہ نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے سخت مؤقف کو دہرایا۔

ایران کی جانب سے بھی اس تناظر میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے جوہری تنصیبات پر حملوں کو جرائم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر بے حسی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رافیل گروسی نے حملہ آوروں کی مذمت کرنے کے بجائے ایسا مؤقف اپنایا جو صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے اور ان میں غیر جانبداری اور سنجیدگی کی کمی نظر آتی ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران، امریکا براہِ راست مذاکرات سے متعلق خبروں کی بھی تردید کی، انھوں نے کہا کہ تہران نے اب تک امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں کیے۔ ان کے مطابق ایران کو مختلف ذرائع کے ذریعے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں امریکا نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا کی بیس فیصد تیل کی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کی اہم ترین جزیرے اور تجارتی بندرگاہ ’خارگ‘ پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ہم اب تک ایران میں تیرہ ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں اور ابھی ہمارے پاس مزید تین ہزار اہداف باقی ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کی تیل کی نوے فی صد سے زائد برآمدات اسی خارگ جزیرے سے ہوتی ہیں۔ جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور پیر کے روز امریکی خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔