’کوئی جنگ بندی نہیں ہو رہی‘؛ ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو پھر مسترد کردیا

تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی
اپ ڈیٹ 01 اپريل 2026 08:54pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر آئی بی نیوز‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی۔

عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو سزا اور ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہ ملنے تک جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ پانچ نکاتی پلان کی خبریں سچائی پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ امریکا نے ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے یا حملوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

مصر کے روزنامے ’الـمصری الیوم‘ کو دیے گئے انٹرویو اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب کسی کو بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے دھیان بھٹکانے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دعوے کرچکے ہیں تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گا۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے۔

اس سے قبل الجزیرہ کو انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کا امریکا پر اعتماد صفر ہے اور وہ جنگ بندی کے بجائے جنگ کا مکمل خاتمہ اور نقصانات کا ازالہ چاہتا ہے۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کے مطالبات تسلیم نہ ہونے تک جنگ جاری رہے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ایران اس بات کی بھی ضمانت چاہتا ہے کہ اس کے خلاف ایسی جارحیت دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آج رات قوم سے خطاب بھی شیڈول ہے جو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد ان کا پہلا پرائم ٹائم خطاب ہوگا۔ ٹرمپ کا یہ خطاب پاکستانی وقت کےمطابق صبح 6 بجے نشر ہوگا۔

ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے خطاب کا یہ فیصلہ حکومت کو درپیش داخلی سیاسی دباؤ اور عوام میں کم ہوتی مقبولیت کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔

امریکا میں ہونے والے حالیہ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد تک گر چکی ہے جب کہ ان کی حمایت میں بھی 50 فیصد سے کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ووٹرز نہ صرف جنگ کے خلاف ہیں بلکہ اس کے اقتصادی اثرات سے بھی ناخوش ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ سے صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھ چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ خطاب کو اہم سمجھا جارہا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران جنگ کے حوالے سے کوئی بڑے اعلانات کرسکتے ہیں۔