ایران کا ایک اور جدید ترین امریکی و اسرائیلی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ہفتے کے روز ایک اور امریکی و اسرائیلی جدید لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حاصل ہونے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے ایک اور دشمن لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ ملنے والی تصاویر میں طیارے کے باقی ماندہ حصے دکھائے گئے ہیں، جنہیں اس دعوے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ تصاویر میں صرف ایک انجن کا ایگزاسٹ نظر آ رہا ہے، جس کی بنیاد پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گرایا جانے والا طیارہ ایف-16 یا ایف-35 میں سے کوئی ایک ہو سکتا ہے، تاہم زیادہ امکان ایف-16 کا بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چند گھنٹے قبل کئی لڑاکا طیارے تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں کی فضاؤں میں پرواز کرتے دیکھے گئے، جہاں انہیں ایرانی مسلح افواج کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض طیاروں نے دفاعی نظام سے بچنے کے لیے فلیئرز بھی چھوڑے، تاہم دستیاب شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے ایک طیارہ ممکنہ طور پر مار گرایا گیا۔
تاہم اس پیش رفت کی تاحال کسی سرکاری ذریعے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
قبل ازیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی فضائی دفاعی افواج نے ایک ہی دن میں ایک لڑاکا طیارہ اور 5 دیگر فضائی اہداف کو تباہ کیا، جسے امریکی اور اسرائیلی فضائیہ کیلئے “سیاہ دن” قرار دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے ایک فیصلہ کن کارروائی کے دوران ایک جدید لڑاکا طیارہ اور 5 دیگر فضائی نظاموں کو نشانہ بنایا، جو دشمن افواج کیلئے بڑا دھچکا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران کی ایرو اسپیس فورس نے خمین اور زنجان کی فضاؤں میں 2 کروز میزائل مار گرائے، جبکہ اصفہان میں 2 ایم کیو-9 حملہ آور ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔
اسی طرح بوشہر کے قریب ایک ہرمس ڈرون کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو ایران کے فضائی دفاعی نظام کی کارروائیوں کا حصہ تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام آپریشنز ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نظام کے تحت انجام دیے گئے، جو ملک کی فضائی حدود پر مضبوط کنٹرول کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی فضائی دفاعی یونٹس نے وسطی ایران میں ایک جدید دشمن لڑاکا طیارہ بھی مار گرایا۔













