ٹرمپ کا الٹی میٹم مسترد، ایران کی پورے خطے کو امریکا اور اسرائیل کے لیے جہنم بنانے کی دھمکی

ایرانی فوج کا صدر ٹرمپ کو کرارا جواب
شائع 05 اپريل 2026 08:31am

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 48 گھنٹے کی آخری مہلت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں پورے خطے کو امریکا اور اسرائیل کے لیے جہنم بنا دیا جائے گا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر جنرل علی عبداللہ العبادی نے اپنے ایک سخت بیان میں صدر ٹرمپ کی دھمکی کو غیر متوازن اور احمقانہ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں امریکی صدر کی گھبراہٹ اور بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران کی سرزمین یا مفادات کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی، تو جواب میں امریکی دہشت گرد فوج کے تمام ڈھانچے اور اسرائیلی تنصیبات کو بغیر کسی حد کے نشانہ بنایا جائے گا۔

ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کو یہ وہم ہے کہ وہ ایران کو شکست دے سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی گہری دلدل ہے جس میں امریکی صدر خود بری طرح دھنس جائیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جارحیت میں اضافہ ہوا تو اس کا دائرہ پورے خطے تک پھیل جائے گا اور دشمن کے لیے بچنے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک تندوتیز پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے تہران کو یاد دلایا کہ وہ ڈیل کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پہلے ہی دس دن دے چکے ہیں۔

ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اب صرف 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں اور اگر اس دوران ایران نے ان کے مطالبات نہ مانے تو ان پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔

امریکی صدر نے 27 مارچ کو ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر حملے دس دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا تھا تاکہ ایران کو سوچنے کا موقع مل سکے، تاہم ایران کے حالیہ جواب نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آنے کو تیار نہیں ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے پاس امریکہ اور اسرائیل کو تکلیف پہنچانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ وہ اپنی دفاعی طاقت کے بل بوتے پر دشمن کے کسی بھی بڑے حملے کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔