ناسا کے نئے چاند مشن میں خلائی جہاز کا ٹوائلٹ سردرد بن گیا
ناسا کا چاند مشن ’آرٹیمس 2‘ مشن جس کا مقصد خلانوردوں کو چاند کے قریب لے جانا ہے، اپنی روانگی کے بعد سے مجموعی طور پر درست سمت میں گامزن ہے لیکن اس سفر کے دوران عملے کو ایک عجیب اور مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اورین کیپسول میں نصب جدید ترین ٹوائلٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے خلانوردوں کے لیے خلا میں قیام دشوار ہونے لگا۔
یہ سسٹم جسے ’یونیورسل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی دن سے خرابی کا شکار ہونے لگا تھا جس نے ناسا کے ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا۔
مشن کی ماہر کرسٹینا کوچ نے، جنہوں نے خود کو مزاحاً ”خلائی پلمبر“ کہا، زمینی مرکز کی مدد سے اسے ٹھیک کیا۔ معلوم ہوا کہ سسٹم کے پمپ کو چلانے کے لیے پانی کی جتنی مقدار چاہیے تھی وہ کم تھی، جسے پورا کرنے پر نظام دوبارہ چل پڑا۔
تاہم یہ سکون عارضی ثابت ہوا اور ٹوائلٹ نے دوسری مرتبہ گڑبڑ شروع کر دی۔ اس بار مسئلہ مائع فضلے کے نکاس کا تھا۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے برعکس، جہاں پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے، اس مشن میں اضافی مائع کو وقتاً فوقتاً خلا میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران نالی کے منہ پر برف جم گئی جس نے نکاس کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا، جس کے نتیجے میں نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
صورتِ حال اس وقت زیادہ سنگین ہو گئی جب ناسا نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ عارضی طور پر اس سہولت کا استعمال بند کر دیں کیونکہ جہاز کے اندر یورین ٹینک بہت چھوٹا ہے اور اس کے بھر جانے کا خطرہ تھا۔ اس دوران عملے کو ہنگامی حالات کے لیے بنے مخصوص تھیلوں پر گزارا کرنا پڑا۔
اس مشکل کو حل کرنے کے لیے خلائی مرکز کے انجنیئروں نے ایک دلچسپ طریقہ اپنایا۔ انہوں نے خلائی جہاز کی سمت کو اس طرح تبدیل کیا کہ بیت الخلا کے نکاس والے حصے پر سورج کی براہِ راست روشنی اور تپش پڑ سکے۔
سورج کی اس حرارت نے نالی میں جمی ہوئی برف کو پگھلا دیا جس سے رکاوٹ ختم ہو گئی۔ اس دوران مشن کی ماہر کرسٹینا کوچ نے ایک بار پھر ’خلائی پلمبر‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے زمینی مرکز کی ہدایات پر عمل کیا اور نظام کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد فراہم کی۔
آخر کار ناسا کی جانب سے یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ برف پگھلنے کے بعد یہ نظام مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے اور عملہ اب اسے بلا جھجھک استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے خلا کے طویل سفر میں اس طرح کی بنیادی سہولیات کا درست کام کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ انسانی ضروریات کا انتظام کیے بغیر چاند یا مریخ جیسے بڑے مشن مکمل کرنا ممکن نہیں ہے۔
















