جی میل کے 2 ارب صارفین کے لیے الرٹ، اے آئی نجی ای میلز کے لیے خطرہ بن گیا
گوگل اپنے مشہور پلیٹ فارم ”جی میل“ میں تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلیاں کرنے جا رہا ہے، جس سے دنیا بھر کے 2 ارب صارفین براہِ راست متاثر ہوں گے۔ اس نئی تبدیلی کا مرکز مصنوعی ذہانت یعنی جیمنائی ہے، جسے اب جی میل کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔
گوگل کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں کے اعلان کے مطابق اب جیمنائی اے آئی کو براہِ راست جی میل ان باکس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اے آئی پر مبنی معاون آپ کے لیے نہ صرف ای میلز لکھ سکے گا اور طویل پیغامات کا خلاصہ کر سکے گا، بلکہ آپ کے ان باکس میں موجود ڈیٹا کو استعمال کر کے آپ کے مختلف سوالات کے جواب بھی دے سکے گا۔
اگرچہ یہ سہولت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی پیش رفت ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے صارف کی پرائیویسی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
پرائیویسی کے ان خدشات پر جی میل کے نائب صدر بلیک بارنز کا کہنا ہے کہ جیمنائی ایک ”ذاتی معاون“ کی طرح کام کرے گا جو آپ کا کام ختم ہونے کے بعد آپ کا ڈیٹا ”بھول“ جائے گا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ گوگل آپ کی نجی ای میلز کو اپنی اے آئی کی ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ جب اے آئی آپ کے حساس اور خفیہ ڈیٹا کو اسکین کرے گا، تو پرائیویسی پر سمجھوتہ ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟ اس کے لیے خبردار کیا گیا ہے کہ صارفین کو اب سستی چھوڑ کر خود متحرک ہونا پڑے گا۔ یہاں چند اہم نکات ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
گوگل کے یہ نئے اے آئی فیچرز ممکنہ طور پر بائی ڈیفالٹ آن ہوں گے۔ آپ کو اپنی سیٹنگز میں جا کر خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کتنا ڈیٹا اے آئی کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔
عام طور پر صارفین نئی اپ ڈیٹس پر توجہ نہیں دیتے، لیکن اے آئی کے معاملے میں یہ غفلت خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک بار ڈیٹا اے آئی سسٹم کا حصہ بن جائے تو اسے مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ ان باکس کو سنبھالنا صارف کا کام ہے، وہ صرف ٹولز فراہم کر رہے ہیں۔ اس لیے اپنی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے ابھی سے اقدامات کریں۔
اگر آپ جی میل استعمال کرتے ہیں، تو یہ وقت ہائی الرٹ ہونے کا ہے۔ گوگل کی ان نئی اپ گریڈز کو محض سہولت نہ سمجھیں بلکہ اپنی ای میلز کی ”سیکیورٹی اور رازداری“ کو مدنظر رکھتے ہوئے جیمنائی اے آئی کے استعمال کا فیصلہ کریں۔
















