ایران کی امریکی ناکہ بندی پر خلیج اور بحیرہ احمر کے راستے بند کرنے کی دھمکی

اگر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ایران خطے میں کسی بھی قسم کی درآمدات اور برآمدات کی اجازت نہیں دے گا: ایرانی فوج
اپ ڈیٹ 15 اپريل 2026 08:10pm

امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں تجارتی راستے بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر کے سربراہ نے بیان میں کہا کہ اگر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ایران خطے میں کسی بھی قسم کی درآمدات اور برآمدات کی اجازت نہیں دے گا۔

ایرانی فوج نے بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں تجارتی سرگرمیوں کو جاری نہیں رہنے دیں گی۔

ایرانی فوج کے مطابق یہ اقدام امریکا کے حالیہ فیصلے کے ردعمل میں کیا جائے گا، جس کے تحت ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ایرانی فوجی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی خود مختاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدام کرے گا۔

واضح رہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تجارتی راستوں اور تیل کی ترسیل پر اثرات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پیر کے روز شروع کی تھی اور امریکی فوج کے بقول کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ خلیج عمان میں 6 تجارتی جہازوں کو واپس لوٹنا پڑا۔

پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایران امریکا امن مذاکرات میں کچھ نکات پر اتفاق ہوا لیکن چند نکات ابھی حل طلب ہیں۔ جس کے لیے دوسرا دور اسی ہفتے متوقع ہے۔