جو بھی مذاکرات ہوں گے مکمل جنگ بندی کے لیے ہوں گے: اسماعیل بقائی

جوہری صلاحیت کا توانائی کے لیے استعمال ہمارا حق ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
اپ ڈیٹ 16 اپريل 2026 10:59am

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جوہری صلاحیت توانائی کے لیے استعمال کرنا ہمارا حق ہے، اپنےحقوق پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔

تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جوہری صلاحیت کو توانائی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایران کا حق ہے اور اس حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اب جو بھی مذاکرات ہوں گے وہ مکمل جنگ بندی کے لیے ہوں گے، جبکہ خطے میں کسی قسم کی مداخلت بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ سے یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ جوہری افزودگی کے معاملے پر بات چیت ہو سکتی ہے، تاہم یہ کہنا کہ ایران چند دنوں میں ایٹم بم بنا سکتا ہے، درست نہیں۔

اسماعیل بقائی کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) بھی اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ ایران ایٹم بم تیار نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایران لبنان کی مزاحمت کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا اور ملک کی پالیسی ہے کہ مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ اسرائیل اور امریکی حکومت ایران کے خلاف دشمنی رکھتی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد مختلف پیغامات کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ مذاکرات کے تسلسل میں بدھ کے روز پاکستان ممکنہ طور پر دوبارہ میزبانی کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں مکمل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ پابندیاں ہٹانے اور کشیدگی کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی تھی، جبکہ مذاکرات کے بعد بھی رابطے جاری ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی اولین ترجیح اپنی معیشت کی ترقی ہے اور جوہری توانائی کا پرامن استعمال اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

انہوں نے امریکا کی جانب سے سمندری ناکہ بندی کو عالمی قوانین اور جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا نگہبان ہے، جبکہ امریکا کے اقدامات عالمی سطح پر متنازع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کی تصدیق ہو چکی ہے اور یہ سفارتی رابطے جاری رہنے چاہئیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ عالمی شخصیات کی جانب سے بھی ایران کے خلاف جنگ کو غیرمنصفانہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی امن کے قیام میں مددگار ثابت نہیں ہو رہی۔