کراچی میں قبضہ مافیا اور زمینوں کی بندر بانٹ، ایم کیو ایم اور سندھ حکومت آمنے سامنے
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کراچی میں مبینہ قبضہ مافیا، سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ اور شہر کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت، بلدیاتی اداروں اور بعض سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ ان کے الزامات کے جواب میں سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم قیادت پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزام تراشی کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں سے کراچی کو قبضہ مافیا کے حوالے کیا جا رہا ہے اور سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ مسلسل جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے بعض افسران لوٹ مار اور قبضہ مافیا کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہیں، جس کے باعث شہر میں زمینوں پر قبضے، غیر قانونی تعمیرات اور جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فاروق ستار نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں رہائشی پلاٹس پر کمرشل سرگرمیاں جاری ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور وڈیرے شہر کی تباہی میں شریک ہیں جبکہ ہل پارک میں قیمتی پلاٹس مبینہ طور پر ہیرا پھیری کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق شہر کی پہاڑیوں کو کاٹ کر نئی رہائشی اسکیمیں اور پلاٹس نکالے جا رہے ہیں، جس سے کراچی کا ماحولیاتی اور شہری ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے وزیراعظم کو مسلسل خطوط لکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے۔
انہوں نے میئر کراچی سے مطالبہ کیا کہ پارکوں میں جاری کمرشل سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 2007 میں نوٹیفائی کیے گئے ماسٹر پلان میں بھی ان مبینہ قبضوں اور بے ضابطگیوں کی گنجائش موجود نہیں، تاہم اس کے باوجود شہر قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر ہے۔
فاروق ستار نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان گٹھ جوڑ کے نتیجے میں کراچی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار بار بار الزامات لگا رہے ہیں لیکن ”الزامات کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی“۔ انہوں نے کہا کہ منفی سیاست اور الزام تراشی کا وقت گزر چکا ہے اور اب فیصلے صرف میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر ہوں گے۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ ہل پارک ہو یا گل پلازہ، قانون کا ہتھوڑا سب پر یکساں چلے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کے ایم سی کو کنگال کس نے کیا، اس کا جواب عوام بخوبی جانتے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہا کہ بارہ مئی کے واقعات کے ذمہ دار آج خود کو پارسا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے تربیت یافتہ شرپسند عناصر دوبارہ سر اٹھانا چاہتے ہیں، تاہم امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے روکا جائے گا۔
انہوں نے وسیم اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست چھوڑنے کی دھمکیاں دینے کے بجائے اپنی کارکردگی کا جواب دیں کیونکہ عوام پہلے ہی انہیں مسترد کر چکے ہیں۔ سعدیہ جاوید نے یہ بھی کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا خواب دیکھنے والے ”احمقوں کی جنت“ میں رہتے ہیں اور صوبائی حکومت شہر کے معاملات کو قانون اور میرٹ کے مطابق چلانے کے لیے پرعزم ہے۔
کراچی میں زمینوں پر قبضوں، شہری منصوبہ بندی اور بلدیاتی معاملات پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان لفظی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
















