اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے قلعے پر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔
شائع 31 مئ 2026 01:29pm

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج نے ایک بڑی عسکری پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے تاریخی بیوفورٹ قلعے (قلعۃ الشقیف) پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع اس اہم اور تاریخی مقام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے قلعے پر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔

صلیبی دور میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی چوٹی پر واقع ہے اور لبنان۔اسرائیل سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر (9 میل) کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث اسے غیرمعمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے۔

تاحال لبنانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی فوری ردعمل یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بیوفورٹ قلعہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحفظ میں شامل ایک تاریخی ورثہ ہے۔ اسرائیل ماضی میں اس قلعے اور اس کے اطراف کے علاقے پر 18 برس تک قابض رہا تھا، تاہم وہ سن 2000 میں لبنان سے انخلا کے دوران یہاں سے واپس چلا گیا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری توسیع پذیر فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ہے۔ اسرائیل پر اس جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوج کی یہ پیش قدمی گزشتہ 25 برس سے زائد عرصے کے دوران ملک کے اندر سب سے گہری دراندازی شمار کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بیوفورٹ قلعے پر قبضے کو ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا ہے۔

ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گولانی بریگیڈ کی قیادت میں اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی کو عبور کرتے ہوئے بیوفورٹ کی پہاڑی چوٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایات اور میری رہنمائی میں اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا، دریائے لیتانی کو عبور کیا اور بیوفورٹ ریج پر قبضہ کیا، جو الجلیل (گیلیلی) کی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم تزویراتی مقام ہے۔

کاٹز نے مزید بتایا کہ اس آپریشن کو پہلے خفیہ رکھا گیا تھا اور اس پر اطلاعاتی پابندی عائد تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں لڑائی ابھی بھی جاری ہے اور اسرائیل حزب اللہ کو مزید کمزور کرنے اور اپنی شمالی سرحد کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی دعووں پر لبنانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔