نئی ڈی این اے تحقیق نے انسانی تاریخ بدل دی: نسلِ انسانی کے آغاز سے متعلق حیران کن انکشافات
انسانی ارتقا سے متعلق ایک اہم سائنسی تحقیق نے روایتی نظریے کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید انسان صرف ایک ہی آبائی گروہ سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ افریقا میں پھیلی مختلف انسانی آبادیوں کے طویل باہمی تعلق اور اختلاط کے نتیجے میں وجود میں آئے۔
بین الاقوامی سائنسی جریدے’’نیچر‘‘ میں 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انسانی ارتقا کے بارے میں ایک نیا ماڈل پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق انسانوں کی ابتدا ایک سادہ خاندانی درخت کی بجائے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کی صورت میں ہوئی۔
اس تحقیق میں موجودہ افریقی آبادیوں کے جینیاتی ڈیٹا کو ابتدائی ’ہومو سیپینز‘ کے فوسل شواہد کے ساتھ ملا کر تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ ابتدائی انسان افریقا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے اور طویل عرصے تک آپس میں جینیاتی تبادلہ کرتے رہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جدید انسانوں کی ابتدا افریقا میں ہوئی، تاہم یہ سوال اب بھی اہم ہے کہ یہ ابتدائی انسانی گروہ کس طرح بٹے، نقل مکانی کی اور دوبارہ آپس میں ملے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ برینا ہین کے مطابق اس حوالے سے غیر یقینی کی بڑی وجہ فوسلز اور قدیم ڈی این اے کے محدود شواہد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی تحقیق انسانی ارتقا کے تصور کو نمایاں طور پر تبدیل کرتی ہے۔
تحقیق کا ایک اہم حصہ جنوبی افریقا کے مقامی قبیلے’’ ناما‘‘ کے 44 نئے جینومز کا تجزیہ تھا، جو جینیاتی تنوع کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف ٹم ویور کا کہنا ہے کہ یہ نتائج پرانے نظریات کو نئے انداز سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔













