لاکھوں روپے اور نوکری کا لالچ: بیٹی نے عاشق کے ساتھ مل کر ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا

مقتولہ کے گردن پر نشانات دیکھ کر رشتہ داروں کو شک ہوا اور پولیس میں شکایت درج کرادی۔
شائع 30 اپريل 2026 10:59am

بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں لالچ اور سنگدلی کی لرزہ خیز واردات میں ایک 17 سالہ لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی ماں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ ناہیدہ پروین کے شوہر بجلی کے محکمے میں ملازم تھے، جن کے انتقال کے بعد ناہیدہ کو 45 لاکھ روپے کی رقم ملی تھی۔

ناہیدہ کی لے پالک بیٹی اس رقم کی واحد نامزد وارث تھی اور ناہیدہ اسی بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔

لڑکی اکثر بینک سے رقم نکال کر اپنے 20 سالہ بوائے فرینڈ ارباز کو دیتی تھی، جس پر ناہیدہ نے سخت اعتراض کیا اور رقم دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ لڑکی اپنے 20 سالہ بوائے فرینڈ اور اس کے چند دوستوں کے ساتھ مل کر والدہ کے پیسے حاصل کرنے کی خواہش میں اس منصوبے میں شامل ہوئی۔

دولت کے راستے میں ماں کو رکاوٹ سمجھتے ہوئے لڑکی اور اس کے دوست نے ناہیدہ کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا، تاکہ وہ رقم، جائیداد اور والد کی جگہ ملنے والی سرکاری ملازمت حاصل کر سکیں۔

24 اپریل کی رات جب ناہیدہ پروین سو رہی تھیں، ملزمان نے ان پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق بیٹی نے اس قتل کے لیے 12 لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ایک ملزم نے تکیے سے ناہیدہ کا منہ دبایا، جبکہ دیگر نے ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ لیے۔ مزاحمت کے دوران ناہیدہ کی گردن پر گہرا زخم آیا اور وہ دم توڑ گئیں۔

لاش کو ایک ڈیپ فریزر میں چھپا دیا گیا اور خون آلود بستر کو گھر کے قریب درختوں میں چھپا دیا گیا۔

اگلی صبح، بیٹی نے رشتہ داروں کو فون کر کے بتایا کہ اس کی ماں باتھ روم میں گرنے کی وجہ سے انتقال کر گئی ہیں۔ اگلے دن مرحومہ کو دفن کر دیا گیا۔

تاہم کچھ رشتہ داروں کو شک ہوا جب انہوں نے پروین کی گردن پر زخموں کے نشانات دیکھے۔

بعد ازاں پروین کے بہنوئی نے اتوار کے روز تحریری طور پر پولیس میں شکایت درج کروائی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاش کو قبر سے نکالا اور پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا۔ سٹی ایس پی پارس رانا کے مطابق، زیرِ حراست لڑکی نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

پولیس نے بہار کے ضلع گیا سے بوائے فرینڈ ارباز خان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔