لاہور میں تین بچوں کا لرزہ خیز قتل، ماں نے جرم کا اعتراف کرلیا: پولیس

ملزمہ نے منصوبہ بندی کے تحت واردات کر کے قتل کا الزام ساس پر ڈالنے کی کوشش کی: پولیس
اپ ڈیٹ 23 اپريل 2026 09:06pm

لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کے کیس میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ماں نے بچوں کے سفاکانہ قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ نے جرم چھپانے کے لیے ساس پر الزام دھرنے کی کوشش کی تاہم شواہد اور متضاد بیانات نے بھانڈا پھوڑ دیا۔

پولیس کے مطابق اچھرہ میں واقع ایک عمارت کے فلیٹ سے تین کمسن بہن بھائیوں کی گلا کٹی لاشیں ملنے کے اندھے قتل کا معمہ آخر کار حل ہو گیا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں یہ ہولناک اور دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ بچوں کی سگی ماں نے ہی اپنے جگر گوشوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا اور پھر اس واقعے کو الگ رنگ دینے کی کوشش کی۔

پولیس حکام کے مطابق کیس کی تفتیش کے آغاز ہی سے بچوں کی ماں کا کردار مشکوک تھا۔ تاہم حکام کی جانب سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا تو شواہد اور بیانات کی بنیاد پر ملزمہ کے خلاف شک کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمہ نے خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا۔ خاتون میڈیکل اسٹور جانے کے بہانے گھر سے نکلی اور بعد ازاں اپنے شوہر کو فون کر کے گھر بلایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ گھر واپس آئی تو صورتِ حال کو مختلف رخ دینے کی کوشش کی اور اس قتل کا الزام ابتدائی طور پر ساس پر ڈالنے کی کوشش بھی کی۔

حکام کے مطابق واقعہ کی ممکنہ وجہ گزشتہ رات گھر میں پیش آنے والے گھریلو جھگڑا کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کرلیا ہے، جس کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ لرزہ خیز واقعہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی فلیٹ سے دو بچیوں اور ایک کمسن بچے کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ دو بچوں کی عمریں پانچ اور چار سال جب کہ ایک بچی کی عمر ڈیڑھ سال تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ تینوں بچوں کو مبینہ طور پر گلا کاٹ کر قتل کیا گیا ہے۔

بچوں کے والدین نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ فلیٹ کو باہر سے تالا لگا کر بازار گئے تھے اور واپسی پر انہیں گھر میں اپنے بچوں کی لاشیں ملیں۔ پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے چچا کو حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں بچوں کے والدین، چچی اور دادی کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا۔

پولیس حکام نے انکشاف کیا تھا کہ زیرِ حراست تمام افراد کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا ہے، جس کے باعث تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔

تفتیش میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب پولیس نے گھر کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیں، جس کے فرانزک تجزیے اور اوقاتِ کار کے باریک بینی سے جائزے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ واقعے کے وقت والدین کے بازار جانے کے بعد بچوں کے چچا کو عمارت سے نکلتے دیکھا گیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کی والدہ گھر واپس آتی نظر آئیں۔

تفتیشی حکام نے جائے وقوعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور واقعے کو جان بوجھ کر مختلف رخ دینے کی کوشش کے واضح شواہد ملنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔