اسرائیل اور امریکا کے ساتھ یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے: امریکی اخبار کا دعویٰ
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں خاموشی سے حصہ لیتے ہوئے ایرانی اہداف پر فوجی حملے کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے بعد تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ لیا ہے۔
ان خفیہ حملوں میں خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، تاہم متحدہ عرب امارات نے عوامی سطح پر اب تک ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاوان جزیرے پر یہ حملہ اپریل کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملہ جنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہوا یا بعد میں، لیکن ایران نے اس وقت اعتراف کیا تھا کہ ایک نامعلوم دشمن نے اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔
اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا، البتہ حکام نے اپنے پرانے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امارات نے ایران کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جس پر اماراتی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا تھا۔
ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری اس جنگ میں متحدہ عرب امارات کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اماراتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت 2200 سے زائد ڈرون داغے ہیں، جس کے باعث یہ خطے کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے۔
اگرچہ زیادہ تر حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود گزشتہ ہفتے کے دوران متحدہ عرب امارات میں دوبارہ ایرانی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں، جس سے خطے میں امن کی نازک صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔














