امریکی بحری ناکہ بندی: بڑے ملک میں ایندھن ختم، بجلی کا نظام مفلوج، زندگی تھم گئی

ہمارے پاس بالکل بھی ایندھن اور ڈیزل نہیں بچا ہے اور ہمارے پاس کوئی محفوظ ذخائر بھی موجود نہیں ہیں: وزیر توانائی
شائع 14 مئ 2026 08:49am

کیوبا کے وزیر توانائی ویسینٹ ڈی لا او نے بدھ کے روز ایک ہنگامی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ڈیزل اور فیول آئل مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے دارالحکومت ہوانا سمیت پورے ملک کو کئی دہائیوں کے بدترین بلیک آؤٹ کا سامنا ہے۔

وزیر توانائی نے سرکاری میڈیا پر صورتحال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بالکل بھی ایندھن اور ڈیزل نہیں بچا ہے اور ہمارے پاس کوئی محفوظ ذخائر بھی موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے قومی گرڈ کی حالت انتہائی نازک ہے۔

رواں ہفتے اور گزشتہ ہفتے کے دوران دارالحکومت میں بجلی کی بندش میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور کئی علاقوں میں دن کے بیس سے بائیس گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔

ویسینٹ ڈی لا او کے مطابق یہ صورتحال ایک ایسے شہر میں تناؤ کو بڑھا رہی ہے جو پہلے ہی خوراک، ایندھن اور ادویات کی قلت کی وجہ سے نڈھال ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک کا پاور گرڈ مکمل طور پر صرف مقامی خام تیل، قدرتی گیس اور شمسی توانائی پر چل رہا ہے۔

اگرچہ کیوبا نے گزشتہ دو سالوں میں تیرہ سو میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے لگائے ہیں، لیکن ایندھن کی کمی کی وجہ سے گرڈ میں پیدا ہونے والا عدم استحکام ان کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے باوجود ایندھن درآمد کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور نقل و حمل کے اخراجات نے ان کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو ہمیں ایندھن فروخت کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جنوری 2026 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم نامے کے بعد سے، جس میں کیوبا کو تیل بھیجنے والے ممالک پر تجارتی پابندیوں کی دھمکی دی گئی تھی، میکسیکو اور وینزویلا جیسے پرانے سپلائرز نے بھی ایندھن بھیجنا بند کر دیا ہے۔

صرف روس کے ایک بحری جہاز نے دسمبر کے بعد سے کچھ امداد فراہم کی ہے۔ اس بحرانی صورتحال پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی ناکہ بندی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے کیوبا کے عوام کے خوراک، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔