کیوبا روس اور ایران کے تعاون سے امریکا پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے: امریکی ویب سائٹ کا دعویٰ
امریکی نیوز ویب سائٹ نے خفیہ انٹیلی جینس دستاویزات کے حوالے سے ایک انتہائی حساس رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق کیوبا نے روس اور ایران سے 300 سے زائد جنگی ڈرونز حاصل کیے ہیں اور وہ امریکا پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ دوسری جانب کیوبا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ممکنہ امریکی جارحیت کے لیے جواز تراشنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ایگزیوس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیوبا نے 2023 سے اب تک روس اور ایران سے مختلف صلاحیتوں کے حامل 300 سے زیادہ حملہ آور ڈرونز خریدے ہیں اور انہیں جزیرے کے اسٹریٹجک مقامات پر چھپا رکھا ہے جب کہ حال ہی میں کیوبا نے روس سے مزید فوجی آلات بھی مانگے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہوانا میں ایرانی عسکری مشیر موجود ہیں جو ڈرون ٹیکنالوجی کو چلانے کے لیے تربیت فراہم کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیوبا ان ڈرونز کو امریکی فوجی اڈے گوانتاناموبے، امریکی بحریہ کے جہازوں اور ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقے ’کی ویسٹ‘ پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر کسی حملے کا خطرہ موجود نہیں اور اس منصوبے کو امریکا کے ممکنہ حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی تیاری قرار دیا جارہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ رپورٹ امریکا کی جانب سے کیوبا پر فوجی حملے کا جواز بن سکتی ہے۔
رپورٹ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیوبا نے امریکی حملوں کے خلاف ممکنہ مدد کے لیے ملک میں روس اور چین کے انٹیلی جنس مراکز قائم کر رکھے ہیں جب کہ امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ کیوبا کے ہزاروں فوجی روس کی جانب سے یوکرین جنگ میں بھی شریک رہے ہیں جہاں انہیں ڈرون حملوں کے حوالے سے جدید تربیت دی گئی ہے۔
یہ رپورٹ عین اس وقت سامنے آئی ہے جب محض دو روز قبل امریکی انٹیلی جینس ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے خفیہ طور پر ہوانا کا دورہ کیا تھا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کانگریس میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ امریکا کو طویل عرصے سے تشویش ہے کہ اس کے ساحلوں کے قریب غیر ملکی طاقتیں حساس انٹیلی جینس سرگرمیوں کے لیے کیوبا کو استعمال کر رہی ہیں۔
دوسری جانب کیوبا کی حکومت نے اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے امریکی ویب سائٹ کو ٹرمپ انتظامیہ کا آلہ کار قرار دیا ہے۔ کیوبا کی سرکاری نیوز ایجنسی نے بیان میں کہا ہے کہ ’ایگزیوس‘ آزادانہ صحافت نہیں کر رہا بلکہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور انٹیلی جینس اداروں کے لیے ایک ایسے پلیٹ فارم کا کام کر رہا ہے جہاں سے خفیہ معلومات جان بوجھ کر لیک کی جاتی ہیں۔
کیوبا کے نائب وزیر خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ کیوبا پر من گھڑت الزامات کا مقصد جارحیت کا جواز پیدا کرنے کی کوشش ہے جو لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا ایک جارح ملک ہے اور کیوبا کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
واضح رہے کہ کیوبا اور امریکا کے درمیان صرف 90 میل کا فاصلہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے دوسرے حکومت میں کیوبا پر تاریخ کا سخت ترین معاشی اور سیاسی دباؤ ڈال رکھا ہے، جس کا حتمی مقصد وہاں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ اور رجیم چینج ہے۔ جنوری میں وینزویلا سے نکولس مادورو حکومت کے خاتمے کے بعد صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کیوبا کو اپنا اگلا ہدف قرار دیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سال 2026 کے اختتام تک کیوبا میں برسرِاقتدار صدر میگل ڈیاز کانیل کی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو جو خود کیوبن نژاد ہیں اور کمیونزم کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں، اس مہم کے اہم محرک ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 19ویں صدی کی اس امریکی پالیسی پر کاربند ہے جس کے تحت امریکا لاطینی اور کیریبین خطے کے تمام ملکوں سے مخالف نظام اور حکومتوں کا خاتمہ اور مکمل طور پر اپنے زیرِ اثر رکھنا چاہتا ہے۔











