آسٹریلیا میں داعش سے تعلق کے الزام میں 4 بچوں کی ماں گرفتار، عدالت میں پیش
آسٹریلیا میں 4 بچوں کی ماں کو شام جا کر شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ دوسری جانب عدالت نے خاتون کو عدالتی تحویل میں بھیجتے ہوئے ضمانت کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پولیس اور خاتون کے وکیل نے بتایا کہ 34 سالہ ریان الحولی کو آسٹریلوی شہر میلبرن میں واقع اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ وہ تقریباً 8 ماہ قبل اپنے بچوں اور ایک دوسری خاتون کے ہمراہ لبنان کے راستے آسٹریلیا واپس آئی تھی۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب دو روز قبل داعش سے منسلک 7 خواتین اور 12 بچوں کو شام کے پناہ گزین کیمپ سے آسٹریلیا واپس لایا گیا تھا حالانکہ آسٹریلوی حکومت اس واپسی کے حق میں نہیں تھی۔
رپورٹس کے مطابق 3 ہفتے قبل بھی 4 خواتین اور 9 بچوں کو شام کے اسی روج کیمپ سے آسٹریلیا منتقل کیا گیا تھا۔ یہ کیمپ شام، ترکی اور عراق کی سرحدوں کے قریب واقع ہے اور بے گھر افراد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان 4 خواتین میں سے 3 پر آسٹریلیا پہنچتے ہی غلامی اور دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے اور وہ تاحال حراست میں ہیں۔
آسٹریلوی وفاقی پولیس کی ڈپٹی کمشنر ہلڈا سیرک نے بتایا کہ شام سے واپس آنے والی تمام خواتین تاحال زیرِ تفتیش ہیں۔ ان کے مطابق لبنان سے ریان الحولی کے ساتھ آنے والی دوسری خاتون بھی تحقیقات کی زد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی شخص پر فوری طور پر فردِ جرم عائد نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تحقیقات ختم ہوچکی ہیں۔
میلبرن کی عدالت میں پیشی کے دوران ریان الحولی سیاہ نقاب میں ملبوس تھی جب کہ 2 جیل اہلکار اس کے ساتھ موجود تھے۔ اس پر ’قرار دیے گئے تنازع زدہ علاقے‘ میں داخل ہونے اور وہاں قیام کرنے کے علاوہ دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دونوں الزامات میں زیادہ سے زیادہ 10،10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
خاتون کے وکیل پیٹر موریسی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ریان الحولی پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار ہے اور اسے جلد اپنے بچوں کے پاس واپس بھیجنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے اسکول اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں تاہم وہ بھی شام کے کیمپوں سے واپس آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ریان الحولی 2013 اور 2014 کے درمیان داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گئی تھی۔ داعش کی شکست کے بعد مارچ 2019 میں کرد فورسز نے اسے خاندان سمیت گرفتار کیا اور بعد ازاں اسے ’الہول کیمپ‘ منتقل کردیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق وہ 26 ستمبر کو آسٹریلیا واپس آئی تھی۔
دوسری جانب سڈنی سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ جنائی صفار پر بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ وہ 7 مئی کو اپنے 9 سالہ بیٹے کے ساتھ آسٹریلیا پہنچی تھی۔ عدالت نے اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کم از کم 2 ماہ جیل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس کے مطابق جنائی صفار 2015 میں اپنے داعش جنگجو ساتھی کے پیچھے شام گئی تھی اور وہاں اس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جب کہ اس کا ساتھی 2017 میں مارا گیا تھا۔
آسٹریلوی حکام کے مطابق 2014 سے 2017 کے دوران شہریوں کے لیے شام میں داعش کے سابق مضبوط گڑھ رقہ کا سفر بغیر کسی جائز وجہ کے غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔
ادھر کوثر احمد المعروف کوثر عباس اور ان کی بیٹی زینب احمد پر بھی میلبرن کی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ انہوں نے شام میں 10 ہزار ڈالر کے عوض ایک یزیدی خاتون کو غلام کے طور پر خریدا تھا۔
زینب احمد کی ضمانت کی درخواست پر آئندہ ہفتے سماعت ہوگی جب کہ ان کی والدہ کی ضمانت کی درخواست پر 16 جون کو سماعت مقرر کی گئی ہے۔











