ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی خبریں 'بے بنیاد' اور 'افواہ' قرار

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی مبینہ خبروں نے ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار...
اپ ڈیٹ 01 جون 2026 10:44am

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی مبینہ خبروں نے ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایران انٹرنیشنل‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی صدر نے اتوار کے روز رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کو اپنا استعفا بھجوا دیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر پزشکیان نے اپنے استعفے میں ملک کے اہم فیصلوں میں حکومت کے کم ہوتے کردار اور اقتدار کے ڈھانچے میں پاسدارانِ انقلاب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر نے اپنے خط میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ صدر اور حکومت کو بڑے قومی فیصلوں سے عملی طور پر الگ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پاسدارانِ انقلاب یعنی آئی آر جی سی نے ریاستی معاملات پر اپنا کنٹرول بڑھا لیا ہے۔

ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، مسعود پزشکیان نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ان موجودہ حالات کے تحت وہ حکومت کو مؤثر طریقے سے چلانے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں، اسی لیے انہوں نے فوری طور پر اپنے عہدے سے الگ ہونے کی اجازت مانگی ہے۔

دوسری جانب، ایران کے صدارتی دفتر نے ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے۔

ایران کے سرکاری حکام نے استعفے کی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے غیر ملکی میڈیا پر من گھڑت خبریں پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

میکسیکو میں قائم ایرانی سفارت خانے ایک پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ ”پزشکیان کا استعفا محض ایک افواہ ہے۔“

آئی آر جی سی سے وابستہ نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے ایک باخبر حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور اپنی صدارتی ذمہ داریاں معمول کے مطابق نبھا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، صدارتی دفتر کے شعبہ مواصلات اور اطلاعات کے ڈپٹی ہیڈ سید مہدی طباطبائی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان جاری کرتے ہوئے ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کو سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔

سید مہدی طباطبائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک بدنام غیر ملکی نیٹ ورک کی جانب سے افواہ سازی دراصل ماضی کے مضحکہ خیز میڈیا گیمز کا ہی تسلسل ہے اور انہوں نے حقیقت کے بجائے اپنی خواہشات کو خبر بنا کر پیش کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر پزشکیان عوام کی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ایرانی قوم یکجہتی اور مزاحمت کے راستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

ایران کے صدارتی دفتر کے مطابق ایسی افواہیں صرف ایک جھوٹا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش ہیں۔