نفسیاتی مریضوں کا گدھوں سے علاج
فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ’ویلے ایورارڈ‘ نفسیاتی اسپتال میں ذہنی صحت کے مریضوں کے لیے ایک منفرد پروگرام جاری ہے، جہاں گدھوں کی مدد سے علاج کا ایک خاص طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا مقصد مریضوں کی ذہنی اور جذباتی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسپتال کے پرانے فارم ہاؤس نما ماحول اور درختوں سے گھری پرسکون جگہ میں مریض باقاعدگی سے گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ ایک حالیہ سیشن کے دوران مریضوں نے پانچ گدھوں کو سیر کرائی، ان کی دیکھ بھال کی اور ان کے کھروں سے مٹی بھی صاف کی۔ کئی مریضوں نے سرگرمی کے اختتام پر گدھوں کو گلے بھی لگایا۔
60 سالہ ناتھالی، جو اس پروگرام میں شریک ہیں، کا کہنا ہے کہ گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا بعض اوقات آرام پہنچانے والی ادویات سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جانوروں کے ساتھ یہ تعلق ذہنی دباؤ کم کرتا ہے اور انسان کو اپنی پریشانیوں سے وقتی طور پر دور لے جاتا ہے۔
اس پروگرام میں مریض مفت شرکت کرتے ہیں اور اس کے اخراجات فرانس کا سرکاری ہیلتھ سسٹم برداشت کرتا ہے۔ ہر مریض کو عموماً ایک مخصوص گدھے کا ساتھ دیا جاتا ہے، جس سے وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو جاتے ہیں۔
جانوروں کی مدد سے علاج کے شعبے میں کام کرنے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق ناتھالی میں چند ہی نشستوں کے بعد نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں ناتھالی جسمانی مشکلات کے باعث فراہم کی گئی گاڑی سے باہر نہیں نکلتی تھیں، لیکن حوصلہ افزائی اور گدھے کے ساتھ تعلق نے انہیں آہستہ آہستہ اعتماد دیا اور اب وہ خود چل کر اس کے ساتھ وقت گزار سکتی ہیں۔
52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس پروگرام نے ان کی تنہائی میں کمی لانے میں مدد دی ہے۔ ان کے مطابق مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کرنے سے روزمرہ زندگی بہتر محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرگرمی علاج اور ادویات کے معمول سے ہٹ کر ایک مثبت تجربہ فراہم کرتی ہے۔
ویل ایورارڈ اسپتال میں گدھوں کی آمد 2016 میں ایک منصوبے کے تحت ہوئی تھی جسے ایرمیلندا اور فرانسوا ہادے نے شروع کیا۔ ایرمیلندا نفسیاتی شعبے سے وابستہ نرس ہیں اور وہ جانوروں کے ذریعے علاج کے فوائد پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کے خیال میں گدھے اپنی پرسکون اور سماجی فطرت کے باعث اس مقصد کے لیے موزوں تھے۔ ان کے شوہر فرانسوا نے گدھوں کو علاجی سرگرمیوں کے لیے تربیت دی۔ کچھ گدھوں کو پناہ گاہوں سے گود لیا گیا تھا جہاں وہ پہلے نظرانداز کیے جانے یا بدسلوکی کا شکار رہے تھے۔
فرانسوا ہادے کے مطابق گدھے ذہین جانور ہیں جو بات جلد سمجھ لیتے ہیں، تاہم انہیں نرمی اور صبر کے ساتھ سمجھانا پڑتا ہے۔ ان کے بقول گدھے انسانوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں اور مریضوں کے جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی لیے وہ علاجی عمل میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
2022 میں اس پروگرام کو اسپتال کے اندر باضابطہ طور پر ایک صحت کے یونٹ کا درجہ دے دیا گیا، جس کے بعد تین کل وقتی نرسوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جانوروں کی دیکھ بھال میں ایک غیر منافع بخش تنظیم کے رضاکار بھی مدد کرتے ہیں۔
وقت کے ساتھ اس منصوبے کو مزید وسعت دی گئی اور اب اس میں مرغیاں، کبوتر، بکریاں، کچھوے اور خرگوش بھی شامل ہیں۔ مریضوں کی ضروریات اور پسند کے مطابق سرگرمیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جبکہ چھوٹے جانوروں کو مریضوں کے کمروں تک بھی لے جایا جا سکتا ہے۔
نرسنگ کی طالبہ ایلیسیا فابی کے مطابق یہ سرگرمیاں مریضوں کو اسپتال کے ماحول سے باہر نکلنے اور ایک مختلف تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض واپسی پر خود کو پرسکون، خوش اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔
فابی کے مطابق ان سرگرمیوں کے دوران مریضوں اور طبی عملے کے درمیان تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اس دوران صرف بیماری پر بات نہیں کی جاتی بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی ہے، جس سے مریض خود کو زیادہ بہتر انداز میں اظہار کرنے کے قابل محسوس کرتے ہیں۔
اسپتال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیشن بے چینی، ڈپریشن، آٹزم، شیزوفرینیا اور دیگر ذہنی مسائل کے شکار افراد کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جانوروں کے ساتھ رابطہ جذباتی توازن، سماجی روابط، گفتگو کی صلاحیت اور خود اعتمادی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
ایرمیلندا ہادے کا کہنا ہے کہ جانوروں کے ساتھ کی جانے والی ہر سرگرمی دراصل مریض کے ساتھ کام کرنے کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جانور کو کھانا کھلانے کے عمل سے مریض کی اپنی غذائی عادات پر بات کی جا سکتی ہے، جبکہ جانور کی صفائی کے ذریعے مریض کی ذاتی صفائی سے متعلق رویوں پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ طریقہ ڈاکٹر یا طبی نسخے کا متبادل نہیں ہے، لیکن مریضوں میں اعتماد بحال کرنے اور اپنی اہمیت کا احساس پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس شعبے میں مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ جانوروں کے ذریعے علاج کو نفسیاتی نگہداشت کے ایک باقاعدہ معاون طریقے کے طور پر زیادہ مضبوط بنیادوں پر تسلیم کیا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مریضوں اور نگہداشت کرنے والے افراد کے تجربات اس کے مثبت اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اس حوالے سے مزید تحقیقی شواہد جمع کرنا ضروری ہے۔
جمعے کے روز ہونے والے ایک سیشن کے اختتام پر جب مریض آپس میں گفتگو کر رہے تھے تو ایک نرس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گدھے ان کے بہترین ساتھی کارکن ہیں۔ یہ جملہ اس پروگرام کی مقبولیت اور اس کے مثبت اثرات کی ایک مختصر مگر دلچسپ عکاسی کرتا ہے۔

















