امریکا میں سائنس دانوں نے شارک سے انوکھا کام لینا شروع کر دیا

امریکی سائنس دان سمندری طوفانوں کا اندازہ لگانے کے لیے شارک کے ذریعے ڈیٹا حاصل کر رہے ہیں۔
شائع 08 اگست 2026 03:11pm

امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے محققین شارکس پر ایسے چھوٹے سینسر نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، نمکیات اور گہرائی سے متعلق معلومات جمع کرکے سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسدانوں تک پہنچاتی ہیں۔ شارکس سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا مستقبل میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن امریکی سائنس دان اب انہی سمندری شکاریوں کو سمندر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے والے قدرتی ’ڈیٹا آبزرور‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

امریکا کی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر شارکس کو ایسے متحرک سمندری مشاہدہ کاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس سے سمندر کی بدلتی صورت حال کا ’ریئل ٹائم ڈیٹا‘ جمع کر کے اسے سمندری، ماحولیاتی اور موسمیاتی ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے شارکس پر الیکٹرانک سینسرز نصب کیے جاتے ہیں جو سمندر کے پانی کی میں موجود نمکیات کے ساتھ ساتھ پانی کے درجہ حرارت اور گہرائی کو ریکارڈ کرتے ہیں اور مسلسل معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔

یونیورسٹی کے اسکول آف میرین سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسر پہلے بھی سمندری تحقیق میں کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں۔ شارکس اس تحقیق کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں، وسیع سمندری علاقوں میں حرکت کرتی ہیں اور کئی محفوظ سمندری ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔

اس سے قبل شارکس کی ٹیگنگ زیادہ تر ان کی نقل و حرکت اور ان کے استعمال کردہ سمندری ٹھکانوں کا پتا لگانے تک محدود رہی ہے۔ تاہم ڈیلاویئر یونیورسٹی کی ٹیم اب شارک کی ایسی نسلوں کا انتخاب کر رہی ہے جو سمندری طوفانوں کی تحقیق کے لیے زیادہ مفید ڈیٹا فراہم کر سکیں اور اتنی مرتبہ سطح آب کے قریب آئیں کہ ان پر نصب ٹیگز سیٹلائٹس کو معلومات منتقل کر سکیں۔

شمالی بحرِ اوقیانوس میں کیے گئے سابقہ تجزیوں میں شارک کی مختلف نسلوں مثلاً شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، اسموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک کو اس تحقیق کے لیے موزوں امیدوار قرار دیا گیا ہے۔

آرون کارلائل کے مطابق محققین کی خاص توجہ سمندر کی اوپری تہہ میں موجود حرارت پر ہے جسے ’مکسڈ لیئر‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی یہی اوپری تہہ سمندری طوفان کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مکسڈ لیئر جتنی گرم ہوگی، طوفان اتنا ہی طاقتور ہو سکتا ہے کیونکہ یہی گرم پانی سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔

ڈیلاویئر یونیورسٹی میں ہی ڈاکٹریٹ کی طالبہ کیرولین ویرنکی کے مطابق شارکس کی ٹیگنگ کا عمل مئی کے آغاز میں شروع ہوتا ہے، جب طویل فاصلے تک ہجرت کرنے والی کچھ شارک نسلیں بحرِ اوقیانوس کے نسبتاً دور علاقوں میں موسم سرما گزارنے کے بعد ساحل کے قریب آتی ہیں۔ محققین ایک تحقیقی جہاز پر ساحل سے تقریباً 50 سے 65 کلومیٹر دور جاتے ہیں، چارہ لگی ڈوریاں سمندر میں ڈالتے ہیں اور عموماً دو سے تین گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔

شارک پکڑے جانے کے بعد اس کی پشت پر موجود پنکھ پر ٹیگ نصب کیا جاتا ہے۔ جب بھی شارک سطح آب کے قریب تیرتی ہے تو ٹیگ سیٹلائٹس کے گردشی نیٹ ورک سے رابطہ قائم کرکے جمع کیا گیا ڈیٹا منتقل کر سکتا ہے۔ یہ پورا عمل عموماً پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔

شارکس پر ٹیگ لگانے کا عمل جانوروں کی فلاح و بہبود کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ ٹیگز کو اس طرح سے پیوست کیا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ گل کر خود بخود الگ ہو جائے۔ ہر شارک کو واپس سمندر میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔ محققین کے مطابق اگر شارک کو دباؤ یا نقصان پہنچا ہو تو اس کے قدرتی رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے تحقیق کے لیے حاصل ہونے والا ڈیٹا متاثر ہو سکتا ہے۔

اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو شارکس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفانوں کی شدت کی پیش گوئی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

محققین کے مطابق اس معلومات سے شمالی کیرولائنا سے میساچوسس تک ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو قابلِ اعتماد پیش گوئی فراہم کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ان علاقوں کو مستقبل کے زیادہ طاقتور سمندری طوفانوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

محققین کے مطابق بہت سے افراد شارک کو خوفناک جانور کے طور پر جانتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ شارکس سمندر کے لیے انتہائی موزوں اور حیرت انگیز جانور ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شارکس انسانوں کے لیے مفید معلومات فراہم کر سکتی ہیں تو یہ جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے ایک فائدہ مند صورت حال ہوگی۔