آیت اللہ خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی تیاریاں: تین روزہ تقریبات کا اعلان

نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان۔
شائع 03 جون 2026 12:40pm

ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق علی خامنہ کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے۔

محمد امین توکلی زادہ کے مطابق تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔