ٹرمپ کی برتھ ڈے پارٹی پر ڈرون حملے کے منصوبے کا انکشاف، 5 افراد گرفتار
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے اتوار 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ‘یو ایف سی فریڈم 250’ کی تقریب پر بارود سے بھرے ڈرونز کے ذریعے حملے کی ایک انتہائی ہولناک سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔
امریکی خبررساں ادارے ’این بی سی نیوز‘ کے مطابق یہ تقریب امریکہ کے 250 سال مکمل ہونے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد کی جا رہی تھی۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سازش میں شامل افراد تقریب کے اوپر دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز اڑانے اور اس کے بعد بھاگتے ہوئے لوگوں پر فائرنگ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
ایف بی آئی نے مختلف ریاستوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر قتل کی سازش سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق تحقیقات کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور خفیہ پیغامات برآمد ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 19 افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد نے حملے سے قبل علاقے کے نقشے اور تصاویر بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیں اور کارروائی کے بعد فرار کے راستوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق ادارے کو اس ممکنہ خطرے کی اطلاع ایونٹ سے چار روز قبل موصول ہوئی تھی، جس کے بعد متعدد ریاستوں میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملے کو ناکام بنایا گیا۔
امریکی خفیہ سروس کے ڈائریکر شان کرن نے کہا کہ ان کی ایجنسی نے اس تحقیقات کے دوران ایف بی آئی کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔ ان کے مطابق مشتبہ افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں نے کئی روز تک مسلسل کام کیا۔
یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں منعقد ہوئی تھی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ اور امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں یو ایف سی مقابلوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔
گرفتار ہونے والوں میں اوہائیو سے تعلق رکھنے والا 19 سالہ ٹائسن پراپر بھی شامل ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق اس کی والدہ نے مقامی پولیس کو اپنے بیٹے کے رویے، اسلحہ خریدنے اور نامعلوم افراد سے آن لائن رابطوں پر تشویش سے آگاہ کیا تھا۔
حکام کے مطابق پراپر کے گھر سے ہزاروں گولیاں، متعدد ہتھیار اور ایک اسالٹ طرز کی رائفل برآمد ہوئی۔ اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ حالیہ مہینوں میں انتہا پسندانہ خیالات کا اظہار کر رہا تھا اور سوشل میڈیا پر یہودی مخالف تبصرے بھی پوسٹ کر چکا تھا۔
ایک اور ملزم، 32 سالہ ڈینیئل ایسکرج، پر الزام ہے کہ وہ گروپ کے ارکان کے لیے ایک ”محفوظ پناہ گاہ“ تیار کر رہا تھا اور اپنے شیڈ کے نیچے بنکر تعمیر کر رہا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ایک اور مشتبہ شخص ابراہم ہرموسیلو الواریز نے ممکنہ اہداف کی ایک فہرست بھی شیئر کی تھی، جس میں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور کاروباری شخصیت ایلون مسک کے نام مبینہ طور پر شامل تھے۔
مزید دو افراد، برائن عمر روا اور مائیکل ایلن تھامس، کو ریاست کیلیفورنیا سے گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان کے گھروں کی تلاشی کے دوران ایسے شواہد ملے جن سے ان کی مبینہ شمولیت ظاہر ہوتی ہے۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔ حکام کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی دارالحکومت میں ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں شمار ہو سکتا تھا۔














