لبنان اور شام کے زیرِقبضہ علاقے امریکا کے کہنے پر بھی نہیں چھوڑیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ایک بڑے علاقے کو سیکیورٹی زون قرار دیتے ہوئے اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔
شائع 24 جون 2026 05:41pm

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر امریکا بھی اسرائیل سے جنوبی لبنان اور شام کے زیرِ قبضہ علاقوں سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کرے تو اسرائیل امریکی دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی برقرار رکھنے کے حوالے سے کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر نے اس معاملے پر ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں صیہونی فوج کی موجودگی سے بے گھر ہونے والے تقریباً دو لاکھ لبنانی شہریاب ان علاقوں میں واپس نہیں جا سکیں گے۔

انہوں نے اس ناجائز قبضے کی دلیل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں شہریوں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی زونز میں اسرائیلی فوجیوں کو سڑک کنارے نصب بموں اور دیگر حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اسی وجہ سے اسرائیل ایسی صورت حال دوبارہ پیدا ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں بھی فوجی سیکیورٹی زونز کے اندر رہیں گے جب کہ رہائشی اس سے باہر۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، مکانات کھنڈر بن چکے ہیں اور یہ رہائش کے لیے محفوظ نہیں رہے، اس لیے اسرائیلی فوج وہاں سے واپس نہیں ہٹے گی۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسرائیل شام کے ان علاقوں سے بھی دستبردار نہیں ہوگا جو اس کی فوج کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے کو اسرائیل کی دفاعی پالیسی قرار دیا، جس کے تحت اسرائیلی فوج کو اپنی بستیوں اور آبادیوں کے تحفظ کے نام پر زیرِ قبضہ علاقے میں موجود رہنا چاہئیے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اور بات چیت میں لبنان کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ایران نے مذاکرات میں پہلی شرط ہی یہی رکھی ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے روکے جائیں گے، اس کے بعد ہی آبنائے ہرمز کھولی جائے گی۔ جس کے بعد امریکی دباؤ پر اسرائیل کو نہ چاہتے ہوئے بھی لبنان پر حملوں میں کمی کرنا پڑی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران جنگ کے آغاز سے اب تک لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 4 ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں، جبکہ 12 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ان علاقوں کو سیکیورٹی زون قرار دیتے ہوئے ان پر قبضہ کر رکھا ہے۔