وینزویلا: زلزلہ آنے سے پہلے ہی گوگل کا الرٹ؛ آخر گوگل کو کیسے پتہ چلا؟
وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں اور مختلف علاقوں میں شدید نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 7.1 اور 7.5 شدت کے یہ زلزلے گزشتہ ایک صدی کے دوران وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس تباہی کے بعد ایک اور سوال بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا کہ گوگل نے زلزلہ محسوس ہونے سے پہلے ہی بعض صارفین کو خبردار کیسے کر دیا؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی صارفین نے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن میں گوگل کی جانب سے زلزلے کی پیشگی وارننگ موصول ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
ایک صارف نے بتایا کہ اسے زلزلہ آنے سے چند لمحے قبل گوگل کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن ملا جس میں تقریباً 6.2 شدت کے زلزلے کا انتباہ دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ زلزلہ تقریباً 341 کلومیٹر دور ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا تعلق براہِ راست اسمارٹ فونز سے ہے۔ ہر جدید اسمارٹ فون میں ایک خاص سینسر موجود ہوتا ہے جسے ایکسیلرومیٹر کہا جاتا ہے۔
عام طور پر یہی سینسر فون کی اسکرین کو گھمانے یا حرکت کو محسوس کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ زمین میں پیدا ہونے والی لرزش کو بھی شناخت کر سکتا ہے۔
جب کسی اینڈرائیڈ فون کو ایسی لرزش محسوس ہوتی ہے جو زلزلے کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے تو فون گوگل کے اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹس سسٹم کو ایک سگنل بھیج دیتا ہے۔ اس سگنل کے ساتھ مقام کی عمومی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔
گوگل کے سرورز پھر اسی علاقے میں موجود دیگر فونز سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا موازنہ کرتے ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں فونز ایک جیسی لرزش ریکارڈ کریں تو سسٹم اندازہ لگا لیتا ہے کہ زلزلہ آ رہا ہے اور فوراً وارننگ جاری کر دیتا ہے۔
گوگل کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب سے زیادہ اینڈرائیڈ فونز اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ نظام دنیا کا سب سے بڑا تقسیم شدہ زلزلہ نگرانی کا نظام بن چکا ہے۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر زلزلہ آ ہی رہا ہو تو گوگل لوگوں کو پہلے کیسے خبردار کر دیتا ہے؟ ماہرین کے مطابق زلزلہ ایک ہی جھٹکے کی صورت میں نہیں آتا بلکہ مختلف قسم کی لہروں کی شکل میں سفر کرتا ہے۔ ابتدائی لہریں، جنہیں پی ویوز کہا جاتا ہے، تقریباً 6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں اور نسبتاً کمزور ہوتی ہیں۔ اس کے بعد آنے والی ایس ویوز زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں لیکن ان کی رفتار تقریباً 3 سے 4 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔
اینڈرائیڈ فونز ان ابتدائی پی ویوز کو محسوس کر لیتے ہیں اور فوراً گوگل کے سرورز کو اطلاع بھیج دیتے ہیں۔ چونکہ ڈیجیٹل سگنلز روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتے ہیں، اس لیے گوگل کو چند قیمتی سیکنڈ مل جاتے ہیں جن میں وہ صورتحال کا جائزہ لے کر متاثرہ علاقوں کے صارفین کو خبردار کر سکتا ہے۔
گوگل نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”ہم بنیادی طور پر روشنی کی رفتار اور زلزلے کی رفتار کے درمیان دوڑ لگا رہے ہوتے ہیں، اور خوش قسمتی سے روشنی کی رفتار زلزلے کی لہروں سے کہیں زیادہ تیز ہے۔“
مثال کے طور پر اگر زلزلے کا مرکز کسی شخص سے 341 کلومیٹر دور ہو تو گوگل کے سرورز زلزلے کے ابتدائی سگنلز وصول کر کے ان کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور اصل جھٹکے پہنچنے سے پہلے الرٹ جاری کر سکتے ہیں۔
اینڈرائیڈ سسٹم میں زلزلے کے لیے دو مختلف قسم کے الرٹس موجود ہیں۔ ”بی اویئر الرٹ“ ہلکی شدت کے جھٹکوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جبکہ ”ٹیک ایکشن الرٹ“ درمیانی یا شدید زلزلے سے پہلے خبردار کرتا ہے تاکہ لوگ حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ ان الرٹس پر کلک کرنے سے زلزلے کے دوران اور بعد میں احتیاطی تدابیر، مقام اور شدت کے ابتدائی اندازوں سمیت مزید معلومات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ نظام بھارت میں 2023 سے اینڈرائیڈ 5 یا اس سے جدید ورژنز پر فعال ہے۔ تاہم الرٹس موصول کرنے کے لیے موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کنکشن کا فعال ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی صارف ایسی وارننگز وصول نہیں کرنا چاہتا تو وہ اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر زلزلے کے الرٹس بند بھی کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام زلزلوں کو پہلے سے پیش گوئی نہیں کرتا، لیکن ابتدائی جھٹکوں کا پتہ لگا کر چند سیکنڈ پہلے خبردار کر دینا بھی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔













