وینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 235 ہوگئی، 4300 زخمی جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ

مکمل ہلاکتوں کی تعداد ابھی سامنے نہیں آئی ہیں: وینزویلا وزیرِ صحت
شائع 26 جون 2026 09:39am

وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور اس کے گرد و نواح میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے ملک کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہزاروں لوگ بے گھر جبکہ دس ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ امدادی کارکن ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے دن رات کوششیں کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وینزویلا کے وزیر صحت کارلوس الوارادو نے جمعرات کی رات بتایا کہ طبی مراکز میں اب تک تقریباً 235 لاشیں لائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ہلاکتوں کی تعداد ابھی سامنے نہیں آئی، جبکہ 4 ہزار 300 افراد زخمی ہیں۔

وینزویلا کی قومی اسمبلی کے سربراہ جارج روڈریگیز نے اس سے قبل کہا تھا کہ تقریباً 200 افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ 250 عمارتیں یا تو مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔ آٹھ اسپتالوں، وینزویلا ریڈ کراس کے مرکزی دفتر اور فرانس کے سفارت خانے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو کے مطابق صرف لا گوائرا ریاست میں تقریباً 70 ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ لا گوائرا، جو کراکس سے ملحق ساحلی ریاست ہے اور جہاں ملک کا اہم بین الاقوامی ایئرپورٹ واقع ہے، سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔

قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ اب ایک آفت زدہ مقام بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر بھاری مشینری پہنچانے اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لا گوائرا کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی جبکہ کراکس کا مرکزی ہوائی اڈہ بھی نقصان کے باعث بند کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا تھا کہ ٹرمینل کی چھت کے پینل گرنے سے مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔

امدادی کارکن اور رضاکار رات بھر منہدم عمارتوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کرتے رہے، تاہم بعض متاثرین کا کہنا ہے کہ سرکاری امداد ان تک دیر سے پہنچی۔

لا گوائرا کی رہائشی یامیلیتھ خیمنیز نے بتایا کہ ان کا 19 سالہ بیٹا اب بھی سات منزلہ عمارت کے ملبے تلے پھنسا ہوا ہے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ وہ کنکریٹ کی بڑی سلوں کے نیچے ہے اور اسے نکالنے کے لیے کوئی مشین موجود نہیں۔ ان کے والد کا صرف تین روز قبل انتقال ہوا تھا۔

شہر میں کئی مقامات پر رضاکار خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں جبکہ خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی خبر کے منتظر ہیں۔

کراکس سے لا گوائرا جانے والی شاہراہ پر لوگ پانی، خوراک اور ادویات اٹھائے متاثرہ علاقوں کی طرف جا رہے ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔

64 سالہ پیڈرو پیریز، جن کا گھر اور کاروبار دونوں تباہ ہو گئے نے بتایا کہ ہم سب کچھ کھو چکے ہیں۔ ہمارے پاس نہ کھانا ہے نہ دوائیاں موجود ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مدد جلد پہنچچ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق زلزلے سرکاری تعطیل کے دوران آئے جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں موجود تھے۔ جیسے ہی زمین ہلنا شروع ہوئی، لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ کراکس کی رہائشی ماریا الیخاندرا نے بتایا کہ جب ہم نیچے پہنچے تو منظر کسی خوفناک فلم جیسا تھا۔

زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ساحلی قصبے مورون میں کئی مکانات منہدم ہو گئے اور لوگ بجلی اور پانی سے محروم ہو گئے۔ ایک رہائشی کمپلیکس کے تقریباً 200 خاندان اپنے بچے کھچے سامان، جن میں گدے، ٹی وی اور واشنگ مشینیں شامل ہیں، نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ رشتہ داروں کے پاس منتقل ہو گئے ہیں جبکہ دوسرے سرکاری پناہ گاہوں کے کھلنے کے منتظر ہیں۔

47 سالہ ڈینس سیکویرا نے بتایا کہ ان کی پانچ سالہ پوتی نے زلزلے کے دوران 79 سالہ دادا کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا، ”وہ مسلسل کہہ رہی تھی: دادا باہر نکلیں، اپنے سر پر ہاتھ رکھیں۔ ہم دوبارہ گھر کے اندر نہیں جا سکے، پوری رات باہر گزاری اور اب مدد کا انتظار کر رہے ہیں۔“

لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بنائی گئی ایک ویب سائٹ، جسے اپوزیشن رہنماؤں نے بھی شیئر کیا، کے مطابق جمعرات کی شام تک 46 ہزار سے زائد افراد لاپتہ درج کیے گئے تھے۔ تاہم خبر رساں ادارہ روئٹرز ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد آئندہ دنوں میں ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے اور یہ تعداد 10 ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

دنیا بھر کے ممالک نے وینزویلا کی مدد کا اعلان کیا ہے، حتیٰ کہ وہ ممالک بھی جن کے وینزویلا کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ قائم مقام صدر روڈریگیز نے کہا کہ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں جلد پہنچیں گی اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔ امریکا نے زلزلہ امداد کے لیے بعض پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا وینزویلا کے عوام کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی بتایا کہ امدادی ٹیمیں بھیجی جائیں گی جبکہ پینٹاگون لاجسٹک تعاون اور متاثرہ ہوائی اڈے کی بحالی میں مدد فراہم کرے گا۔

اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ عالمی ادارہ بین الاقوامی امدادی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بہت بڑی اجتماعی کوشش کی ضرورت ہوگی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر عائد بعض پابندیاں ختم کرے کیونکہ رابطے کا نظام زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں اپنے صارفین کو 25 جولائی تک مفت سروس فراہم کی جائے گی اور سخت متاثرہ علاقوں میں اضافی ٹرمینلز نصب کیے جائیں گے تاکہ مواصلاتی نظام بحال کیا جا سکے۔

دوسری جانب تیل کے شعبے میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے بتایا ہے کہ ان کی سرگرمیاں زیادہ متاثر نہیں ہوئیں اور اہم تیل تنصیبات بڑی تباہی سے محفوظ رہی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شام کراکس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں پہلے 7.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ زلزہ سن 1900 کے بعد آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلوں کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ کراکس اور ساحلی علاقوں میں عمارتیں لرز گئیں تھیں، کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔