امریکا کا ایرانی فنڈز کی نگرانی کے لیے دوحہ میں ادارہ قائم کرنے کا اعلان
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک خصوصی ادارہ قائم کیا جائے گا جو ایران کے منجمد فنڈز کے استعمال کی نگرانی کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اثاثوں کا بڑا حصہ خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکا کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک آپریشنل سیل قائم کرے گا جو ایران کے منجمد فنڈز کی نگرانی اور ان کے استعمال کی نگرانی کا ذمہ دار ہوگا۔
امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سکاٹ بیسنٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے غیر منجمد کیے جانے والے اثاثوں کا ایک بڑا حصہ خوراک اور ادویات کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا، جن میں امریکی مصنوعات کو ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ملنے والی رقم سب سے پہلے ایرانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ ان کے بقول یہ فنڈز ممکنہ طور پر قطر کے ذریعے جاری کیے جائیں گے اور امریکی محکمہ خزانہ ان کی تقسیم اور استعمال پر براہ راست نظر رکھے گا۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ فنڈز کا ایک بہت بڑا حصہ امریکی خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے مختص ہوگا، جس کے نتیجے میں یہ رقم بالآخر امریکی مصنوعات کی خریداری کی صورت میں دوبارہ امریکی معیشت میں واپس آئے گی۔
دوسری جانب بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ تہران نے امریکا سے زرعی یا دواسازی کی مصنوعات خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ منجمد فنڈز کے استعمال کا فیصلہ ایران خود کرے گا اور یہ طے کرے گا کہ رقم کہاں اور کس مقصد کے لیے خرچ کی جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ ایران کے بعض فنڈز کو امریکی کسانوں سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور یہ اشیا امریکا سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے مختلف پابندیوں کے باعث بیرون ملک منجمد ہیں۔ ان فنڈز کے استعمال اور نگرانی کا معاملہ کئی برسوں سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تنازعات کا اہم حصہ رہا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی ایسی رقوم میں سے، جو امریکی کنٹرول میں ہیں، کچھ رقم امریکی کسانوں اور مویشی پال حضرات سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی اجناس کی خریداری کے لیے استعمال کرے گا۔












