وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے ہلاکتیں 589 ہو گئیں، تقریباً 3 ہزار زخمی، نائب صدر کی تصدیق
وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں بدھ کی شام آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 589 ہو گئی ہے جب کہ 2 ہزار 980 افراد زخمی ہیں۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں دن رات جاری ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے جمعے کی صبح حکومتی اور فوجی حکام کے ہمراہ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والی امدادی اور ریسکیو ٹیموں کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ زلزلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 589 جب کہ زخمیوں کی تعداد 2 ہزار 980 تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”ہم ملبے تلے پھنسے تمام افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے امدادی اہلکار مسلسل کام کر رہے ہیں۔“
ڈیلسی روڈریگیز کے مطابق ریاست لا گوائیرا 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں امدادی کارروائیوں کو مؤثر بنانے، متاثرین تک خوراک اور پانی پہنچانے اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
بدھ کی شام آنے والے یہ دونوں زلزلے گزشتہ ایک صدی کے دوران وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جن کے جھٹکے ملک کے بیشتر شمالی علاقوں سمیت پورے خطے میں محسوس کیے گئے۔
اس سے قبل جمعرات کی شب وینزویلا کے وزیر صحت کارلوس الواراڈو نے ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 235 اور زخمیوں کی تعداد 4 ہزار 300 سے زائد بتائی تھی تاہم بعد ازاں قائم مقام صدر نے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اموات کی تعداد 589 اور زخمیوں کی تعداد 2 ہزار 980 ہونے کی تصدیق کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں، اس لیے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق زلزلوں سے وینزویلا میں تقریباً 67 لاکھ 60 ہزار افراد متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں صرف دارالحکومت کراکس کے تقریباً 20 لاکھ شہری شامل ہیں۔ ریڈ کراس کی علاقائی ڈائریکٹر لوئس پیس نے کہا کہ لوگ اب بھی اپنے گھروں میں واپس جانے سے خوفزدہ ہیں کیوں کہ متعدد عمارتیں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے زخمیوں کو نکالتے دیکھا گیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ایک خاتون کئی گھنٹوں تک کنکریٹ کے بڑے سلیب تلے دبی رہیں، جہاں صرف ان کا ایک پاؤں باہر نظر آ رہا تھا، بعد ازاں ریسکیو اہلکار انہیں زندہ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔
دارالحکومت کراکس سے شمال میں واقع ساحلی ریاست لا گوائیرا میں سب سے زیادہ تباہی ریکارڈ کی گئی۔ اسی علاقے میں ملک کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی واقع ہے، جو زلزلے سے نقصان پہنچنے کے باعث بند کر دیا گیا، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آئیں۔
متاثرہ علاقوں میں متعدد عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں، سڑکوں میں بڑی دراڑیں پڑ گئیں جب کہ کئی عمارتوں سے فرنیچر اور دیگر سامان باہر لٹکتا ہوا دیکھا گیا۔ ہیلی کاپٹر مسلسل فضائی نگرانی اور امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔
اپنے پیاروں کی تلاش میں شہریوں نے گمشدہ افراد کی تصاویر اور پوسٹر مختلف مقامات پر آویزاں کیے جب کہ کئی خاندان ہاتھ سے لکھی گئی فہرستیں لے کر اسپتالوں اور امدادی مراکز کے چکر لگاتے رہے۔ بیرون ملک مقیم وینزویلا کے شہری بھی فون سروس متاثر ہونے کے باعث اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں مشکلات کا شکار رہے۔ کراکس میں سینکڑوں افراد نے خوف کے باعث رات پارکوں، کھلی جگہوں اور پارکنگ ایریاز میں گزاری۔
تین بچوں کی والدہ ڈیانا ڈیلگاڈو نے سوال اٹھایا کہ حکومت کی جانب سے وعدہ کی گئی بھاری مشینری کہاں ہے کیوں کہ ان کے بقول مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹا کر متاثرین کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے 8 سالہ لاپتہ بیٹے کے بارے میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں وہ ملبے تلے دبا ہوا ہے یا کسی پناہ گاہ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
ایک اور خاتون اپنے 3 اور 10 سالہ بچوں کی لاشیں کمبل میں لپٹی دیکھ کر غم سے نڈھال ہو کر گر پڑیں جب کہ متعدد افراد اپنے لاپتہ عزیزوں کے نام پکارتے رہے اور کئی شہری صدمے کے باعث خاموش کھڑے رہے۔
حکام کے مطابق ملک کے دیگر حصوں سے امدادی ٹیموں کو لا گوائیرا منتقل کیا جا رہا ہے، یہ علاقہ اس سے قبل 1999 میں آنے والے تباہ کن مٹی کے تودوں کی زد میں بھی آ چکا ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ریاست لا گوائیرا کے رہائشی کرسٹیان کاریینو نے اپنی جھکی ہوئی اور تباہ حال رہائشی عمارت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور ان کے خیال میں اب بھی کئی لوگ عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ ریٹائرڈ اسکول ٹیچر البرٹو مینڈانیو نے بتایا کہ وہ ملبے کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک خاتون کا ہاتھ نظر آیا جو مدد کے لیے اشارہ کر رہی تھیں تاہم اس وقت انہیں نکالنے کے لیے کوئی وسائل موجود نہیں تھے۔
ملکی میڈیا نے تباہی کے دوران امید افزا مناظر بھی نشر کیے، جن میں کراکس کے سان برنارڈینو علاقے سے ایک نوجوان کو زندہ نکالا جانا شامل ہے، جہاں موجود افراد نے تالیاں بجا کر ریسکیو اہلکاروں کا استقبال کیا جب کہ نوجوان کی والدہ جذباتی انداز میں اپنے بیٹے کو پکارتی رہیں۔
سرکاری ٹی وی نے ایک کم عمر بچی کی ویڈیو بھی نشر کی، جسے ملبے سے زندہ نکالا گیا۔ کراکس میٹروپولیٹن ریسکیو ٹیم کے سربراہ ہوزے لوئس نونیز کے مطابق یہ بچی لا گوائیرا میں واقع 10 منزلہ عمارت کے ملبے سے ملی، جو زلزلے کے باعث مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی تھی۔ انہوں نے بچی کی ہمت اور زندہ رہنے کے عزم کو سراہا۔
یہ قدرتی آفت قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے لیے ایک بڑا امتحان بھی بن گئی ہے۔ انہوں نے جنوری میں اس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب سابق صدر نکولس مادورو کو امریکا کی کارروائی کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وینزویلا گزشتہ ایک دہائی سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور ملک میں سیاسی کشیدگی بھی برقرار ہے۔
صدر روڈریگیز نے زلزلے کے فوری بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے متاثرہ اسپتالوں اور گھروں کی تعمیر نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان کیا جب کہ نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ بھاری مشینری امدادی کارروائیوں کے لیے فراہم کرے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ وینزویلا کئی فالٹ لائنز کے قریب واقع ہے تاہم جنوبی امریکی اور کیریبین پلیٹوں کے سنگم پر ہونے کے باوجود اس نوعیت کے طاقتور زلزلے یہاں نسبتاً کم آتے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق دونوں زلزلوں کا مرکز بحیرہ کیریبین کے ساحلی شہر مورون کے قریب تھا، جو دارالحکومت کراکس سے تقریباً 170 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
برازیل کے جیولوجیکل سروے سے وابستہ جیو فزکس کے ماہر مارکوس فریرا نے بتایا کہ کم گہرائی میں آنے والے مسلسل 2 زلزلوں نے تباہی کی شدت کئی گنا بڑھا دی۔
ادھر اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ عالمی ادارہ بین الاقوامی امدادی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بہت بڑی اجتماعی کوشش کی ضرورت ہوگی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر عائد بعض پابندیاں ختم کرے کیوں کہ رابطے کا نظام زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام کی جانب سے حکومت سے سوشل میڈیا پر عائد پابندیاں نرم کرنے کی اپیل کے کچھ ہی دیر بعد وینزویلا میں صارفین دوبارہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ پلیٹ فارم اگست 2024 سے بند تھا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد (OCHA) کے مطابق دنیا بھر سے تقریباً ایک ہزار امدادی اہلکار 25 سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی صورت میں وینزویلا پہنچ رہے ہیں۔
دنیا بھر کے ممالک نے وینزویلا کی مدد کا اعلان کیا ہے حتیٰ کہ وہ ممالک بھی جن کے وینزویلا کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ قائم مقام صدر روڈریگیز نے کہا کہ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں جلد پہنچیں گی اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔
امریکا نے زلزلہ امداد کے لیے بعض پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا وینزویلا کے عوام کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز سے ٹیلی فونک رابطے کے بعد کہا کہ امریکا فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کر رہا ہے تاہم مرکزی ہوائی اڈے کی بندش امدادی کارروائیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اسپین سے ریسکیو ٹیمیں، تربیت یافتہ کتے، گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار اور جدید آلات وینزویلا پہنچ چکے ہیں جب کہ چلی اور سوئٹزرلینڈ کی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہو گئی ہیں۔
جرمنی کے 3 فوجی طیارے امدادی سامان اور اہلکاروں کے ساتھ روانہ کیے گئے ہیں جب کہ ترکی نے بھی 2 خصوصی پروازوں کے ذریعے امدادی ٹیمیں اور سرچ ڈاگز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چین نے بھی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ قطر، برازیل، پرتگال اور کینیڈا نے بھی مدد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ ایل سلواڈور، ڈومینیکن ری پبلک اور میکسیکو سے امدادی ٹیمیں اور امدادی سامان پہلے ہی وینزویلا پہنچ چکا ہے۔ ڈومینیکن فضائیہ کے میجر کارلوس اولیوارس نے کہا کہ کوئی ایک ملک اکیلے اتنے بڑے پیمانے کی قدرتی آفت سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اسی لیے پڑوسی ممالک کا تعاون انتہائی اہم ہے۔
سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں اپنے صارفین کو 25 جولائی تک مفت سروس فراہم کی جائے گی اور سخت متاثرہ علاقوں میں اضافی ٹرمینلز نصب کیے جائیں گے تاکہ مواصلاتی نظام بحال کیا جا سکے۔
دوسری جانب تیل کے شعبے میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے بتایا ہے کہ ان کی سرگرمیاں زیادہ متاثر نہیں ہوئیں اور اہم تیل تنصیبات بڑی تباہی سے محفوظ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وینزویلا میں 29 اکتوبر 1900 کو 7.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے بعد اب آنے والا یہ سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔












