فریکچر کے بعد پلاسٹر میں خارش ہو تو کیا کریں؟ آسان اور مختصر طریقے
ہڈی ٹوٹنے کے بعد پلاسٹر کے اندر خارش ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ لیکن بعض غلطیاں اس تکلیف کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں صحیح طریقہ جاننا بہت ضروری ہے تاکہ آرام مل سکے۔
ہڈی ٹوٹنے کے بعد پلاسٹر لگنا جتنا ضروری ہوتا ہے، اتنا ہی بعض اوقات تکلیف دہ بھی ہوتا ہے، خاص طور پر جب اس کے اندر خارش شروع ہو جائے۔ یہ خارش اتنی پریشان کن ہو سکتی ہے کہ لوگ اکثر اس میں اسکیل، قلم یا کوئی نوکیلی چیز ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹروں کے مطابق یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
پلاسٹر کے اندر ہلکی خارش ہونا عام بات ہے اور کچھ آسان طریقوں سے اس میں آرام مل سکتا ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فریکچر کے دوران خارش کیوں ہوتی ہے، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے اور کون سی غلطیوں سے بچنا چاہیے۔
فریکچر کے بعد پلاسٹر کے اندر خارش کیوں ہوتی ہے؟
جلد کا خشک ہونا: پلاسٹر کے اندر جلد کو ہوا نہیں ملتی جس کی وجہ سے جلد خشک ہو جاتی ہے اور خارش پیدا ہوتی ہے۔
پسینہ جمع ہونا: گرمی کے موسم میں خاص طور پر پلاسٹر کے اندر پسینہ جمع ہو جاتا ہے، جو خارش کا باعث بنتا ہے۔
ہڈی کا ٹھیک ہونا: جب ہڈی جڑنے لگتی ہے تو جسم میں کئی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور اس دوران ہلکی خارش محسوس ہونا عام سمجھا جاتا ہے۔
پلاسٹر کے اندر خارش ہو تو کیا کریں؟
اگر ڈاکٹر اجازت دے تو پلاسٹر کے اوپر ٹھنڈی ہوا دی جا سکتی ہے، جس سے کچھ حد تک آرام ملتا ہے۔
اس کے علاوہ کسی کپڑے میں لپیٹ کر آئس پیک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ پلاسٹر گیلا نہ ہو۔
پلاسٹر کو ہمیشہ خشک رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ نمی خارش کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
یہ غلطیاں بالکل نہ کریں
کسی بھی نوکیلی چیز جیسے قلم، اسکیل یا چمچ کو پلاسٹر کے اندر نہیں ڈالنا چاہیے کیونکہ اس سے جلد زخمی ہو سکتی ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی دوا یا پاؤڈر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اسی طرح خارش سے تنگ آ کر پلاسٹر کو خود توڑنے یا اتارنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔
ان باتوں کا بھی خیال رکھیں
صحت مند غذا لینا بہت ضروری ہے، خاص طور پر کیلشیم اور پروٹین سے بھرپور خوراک جیسے دودھ، پنیر اور دیگر غذائیں ہڈی کو جلد ٹھیک ہونے میں مدد دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ مکمل آرام بھی بہت ضروری ہے تاکہ فریکچر جلدی بہتر ہو سکے۔
اہم نوٹ: اگر خارش بہت زیادہ ہو جائے، انگلیاں نیلی پڑنے لگیں، جلن یا درد بڑھ جائے، یا بدبو آنے لگے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
















