بھارتی کمپنی 'ٹاٹا' کی ڈیٹا چوری میں آئی فون 18 پرو کی تفصیلات لیک

یہ سائبر حملہ ایپل اور ٹاٹا کے درمیان اعتماد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے: ٹیکنالوجی ماہرین
شائع 30 جون 2026 03:05pm

ایپل کے آنے والے آئی فون 18 پرو سے متعلق حساس معلومات، پرزہ جات کی تفصیلات، سپلائرز کی فہرست اور مبینہ تصاویر انٹرنیٹ کے خفیہ حصے ڈارک ویب پر لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ معلومات اس سائبر حملے کے بعد سامنے آئیں جس میں ایپل کی بھارتی سپلائر کمپنی ٹاٹا الیکٹرانکس کا ڈیٹا چوری کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا رینسم ویئر گروپ ”ورلڈ لیکس“ نے ڈارک ویب پر جاری کیا۔ لیک ہونے والی فائلوں میں آئی فون 18 پرو کے مختلف پرزوں، ان کے سپلائرز اور فون کی تیاری سے متعلق اہم معلومات شامل ہیں، جبکہ بعض تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر آئی فون 18 پرو کے ڈراپ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق راز افشاں ہونے سے ایپل کے اس پیچیدہ سپلائی سسٹم کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس میں دنیا بھر کی مختلف کمپنیاں آئی فون کے مختلف پرزے تیار کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان معلومات کے سامنے آنے سے حریف کمپنیوں، جعلی مصنوعات بنانے والوں اور سپلائرز کو بھی اہم تجارتی معلومات مل سکتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹاٹا الیکٹرانکس نہ صرف ایپل کو مختلف پرزے فراہم کرتی ہے بلکہ بھارت میں آئی فون کی اسمبلنگ بھی کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹاٹا چین کے علاوہ ایپل کی اہم ترین مینوفیکچرنگ پارٹنرز میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ بھارتی حکومت بھی ملک کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا بڑا مرکز بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایپل کمپنی رواں برس ستمبر میں آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ لیک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی نے گزشتہ ہفتے میموری اور اسٹوریج چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث آئی پیڈ اور میک بک کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، جبکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں آئی فون کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اس سے قبل بھی ٹاٹا الیکٹرانکس سے چوری ہونے والی دو لاکھ سے زائد فائلوں میں پرانے آئی فونز، ٹیسلا، تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی اور کوالکوم سے متعلق دستاویزات شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جن نئی دستاویزات کا جائزہ لیا، ان کے مطابق کم از کم چھ فائلوں میں آئی فون 18 پرو کے مختلف پرزوں کو ان کی سپلائر کمپنیوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ان میں مین سرکٹ بورڈ پر لگنے والی چپس، بیٹری اور کیمروں کے مختلف حصوں کی معلومات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایپل ان معلومات کو انتہائی حساس سمجھتی ہے، کیونکہ یہ ایسے فون سے متعلق ہیں جو ابھی تک مارکیٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ معاملے سے واقف ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ دستاویزات آئی فون کے مختلف پرزوں کو ان کے سپلائرز کے ساتھ جوڑتی ہیں، جبکہ ایپل عام طور پر یہ معلومات اپنی عوامی سپلائر فہرست میں ظاہر نہیں کرتی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ریکارڈز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض پرزوں کے لیے ایپل ایک سے زیادہ سپلائرز پر انحصار کرتی ہے، جبکہ کچھ حصے صرف چند مخصوص کمپنیوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس سے کمپنی کی سپلائی چین کی مضبوطیاں اور ممکنہ کمزوریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایپل اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب ورلڈ لیکس اس سے قبل نائکی پر ہونے والے سائبر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے، تاہم رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ لیک ہونے والے ڈیٹا کی مکمل تصدیق نہیں کر سکا اور نہ ہی فوری طور پر ورلڈ لیکس سے مؤقف حاصل کیا جا سکا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ویب سائٹ ایپل انسائیڈر نے سب سے پہلے خبر دی تھی کہ آئی فون 18 پرو سے متعلق دستاویزات بھی ٹاٹا ڈیٹا لیک کا حصہ ہیں۔

رائٹرز نے اپنی سابقہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایپل اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ٹاٹا کے ساتھ مل کر مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ ٹاٹا نے تحقیقات کے دوران حساس سسٹمز تک اندرونی رسائی محدود کر دی ہے اور ایک عالمی کنسلٹنٹ کو فرانزک آڈٹ کے لیے بھی مقرر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سائبر حملہ ایپل اور ٹاٹا کے درمیان اعتماد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ ایپل اپنی پیداوار کو چین سے باہر منتقل کرنے کی حکمت عملی میں بھارت اور خاص طور پر ٹاٹا پر تیزی سے انحصار بڑھا رہی ہے۔

تحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں تیار ہونے والے تقریباً 26 فیصد آئی فون بھارت میں بنائے جائیں گے، جبکہ چار سال پہلے یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔