لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 15 بچے جاں بحق، مالک مکان سمیت 2 افراد زیر حراست
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں چھت کے ملبے تلے دب کر 15 بچے ملبے جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ حادثے کے بعد پولیس نے مالک مکان سمیت 2 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں نے سانحہ لاہور میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
منگل کے روز لاہور کے علاقے کاہنہ میں واقع ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ سانحے میں تبدیل ہوگیا، جہاں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 15 بچے ملبے تلے دب کر بچے جان کی بازی ہار گئے۔
ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ نے بچوں کی اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے بعد مجموعی طور پر 19 بچے ٹی ایچ کیو اسپتال لائے گئے، ان میں سے زیر علاج 5 دیگر بچوں کی حالت بہتر ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی چھت شام 4 بج کر 45 منٹ پر گری جب کہ حادثے کے وقت ٹیوشن سینٹر میں 30 سے زائد بچے موجود تھے، جن میں زیادہ تر بچوں کی عمریں 10 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
ترجمان ریسکیو محمد فاروق کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں نے بچوں کی جانیں بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی تاہم زیادہ تربچوں کی حالت نازک ہے، 20 سے زائد افراد کو ملبے سے ریسکیو کیا گیا ہے جب کہ ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔

ترجمان ریسکیو نے مزید بتایا کہ ملبے سے نکالے جانے والے ایک تہائی سے زائد بچوں کی نبض موجود نہیں تھی۔ ریسکیو کے مطابق متعلقہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر کی مدد سے تعمیر کی گئی تھی، جو اچانک منہدم ہوگئی۔
حادثے میں جاں بحق اور زخمی بچوں کی تفصیلات
دوسری جانب کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد ٹی ایچ کیو کاہنہ نے جاں بحق اور زخمی ہونے والے بچوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
جاں بحق ہونے والے بچوں میں 8 سالہ عبداللہ ولد مصطفیٰ، 8 سالہ سلمان ولد وسیم، 9 سالہ عروج دختر مصطفیٰ، 8 سالہ مہنور ولد فاروق، 7 سالہ تشبیہ دختر شہزادہ، 8 سالہ فواد ولد محمد عابد، 11 سالہ ایمان فاطمہ دختر مصطفیٰ، 12 سالہ خدیجہ دختر وسیم، 6 سالہ عروج دختر مرتضیٰ، 4 سالہ ارتضیٰ، 6 سالہ رمشا، 6 سالہ علی ولد فرمان، 8 سالہ ارحم ولد حسن علی، 7 سالہ دعا دختر گلفام اور 7 سالہ عبداللہ ولد اصغر شامل ہیں۔

ٹی ایچ کیو کاہنہ کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 6 افراد کی حالت مستحکم ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ زخمیوں میں 8 سالہ ابیہا، 10 سالہ فاریہ، 11 سالہ مرتضیٰ، 8 سالہ ایان، 7 سالہ رابعہ اور 30 سالہ حمیدہ ریحان شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
حادثے کے بعد مالک مکان سمیت 2 افراد زیر حراست
ادھر کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے بعد پولیس، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ متاثرہ مقام پر ملبہ ہٹانے اور متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق حادثے کے بعد مالک مکان سمیت 2 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران بھی موقع پر پہنچے، جہاں انہوں نے ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ حاصل کی۔
حکام کے مطابق زخمی بچوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز نے اسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے اظہارِ تعزیت کیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعظم و دیگر کا سانحہ لاہور پر اظہار افسوس
وزیراعظم شہباز شریف، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان صوبائی اور وزیر قانون رانا اقبال نے لاہور کے علاقہ کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے نے سانحہ لاہور میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور ان کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ انہیں بروقت علاج میسر آ سکے۔
وزیر قانون پنجاب رانا اقبال نے لاہور واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی بچوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو واقعے کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
رانا اقبال نے مزید کہا کہ بچوں کی جانوں سے کھیلنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔
گورنر پنجاب سردارسلیم حیدر خان نے بھی کاہنہ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع پر بہت دکھ ہوا، زخمی بچوں کی طبی امداد میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بوسیدہ عمارتوں میں تعلیمی سرگرمیاں جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔


















