ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کے ساتھ ناانصافی، ایران نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہرا دیا

تہران کا کہنا ہے ویزوں، رہائش اور دیگر انتظامات میں رکاوٹیں ڈال کر عالمی کھیلوں کی میزبانی کے اصول متاثر کیے گئے۔
شائع 30 جون 2026 06:42pm

ایران نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران اپنی قومی فٹبال ٹیم کے ساتھ روا رکھے گئے رویے پر امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ویزوں کے اجرا سے لے کر رہائش کے انتظامات تک ایرانی وفد کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض امریکی حکام کے بیانات نے بھی کھیلوں کو سیاست سے جوڑنے کا تاثر دیا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران ایرانی قومی فٹ بال ٹیم کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جو عالمی کھیلوں کی میزبانی کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ان کے مطابق ایرانی ٹیم کو پورے ٹورنامنٹ کے دوران انتہائی سیاسی ماحول کا سامنا کرنا پڑا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ویزوں کے اجرا کا معاملہ ابتدا ہی سے مشکلات کا شکار رہا اور ایرانی ٹیم کے متعدد تکنیکی عملے اور فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں کو ویزے جاری نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول اس صورتِ حال نے ٹیم کی تیاریوں اور انتظامی امور کو متاثر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قومی ٹیم کی رہائش کے انتظامات بھی تنازع کا باعث بنے، کیونکہ ٹیم کو میچوں کے مقام کے بجائے دوسری جگہ ٹھہرایا گیا، جس سے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کو غیر ضروری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ایرانی ترجمان نے امریکا کے وزیرِ داخلی سلامتی مارک وین مولن کے بیان پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے ایران کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر خوشی کا اظہار کرنا کھیلوں کے جذبے اور بین الاقوامی روایات کے منافی ہے۔

اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کرنے والے ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام ٹیموں کے ساتھ یکساں، غیر جانب دار اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں تاکہ کھیلوں کو سیاسی اختلافات سے دور رکھا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایران کی ٹیم 2026 فیفا ورلڈ کپ میں ایک بھی میچ ہارے بغیر بھی پہلے مرحلے سے باہر ہوگئی۔ ایران کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے دیگر گروپس کے نتائج اپنے حق میں درکار تھے، تاہم آسٹریا اور الجزائر کا میچ برابر ہونے کے بعد اس کی امیدیں ختم ہوگئیں اور وہ معمولی فرق سے راؤنڈ آف 32 میں جگہ نہ بنا سکی۔

ایران کے ہیڈ کوچ امیرغالنوئی نے ٹیم کے اخراج کے بعد میزبان ملک پر ناانصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ٹیم کو اسکواڈ کی تیاری، تربیتی کیمپ اور سفر کے دوران غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کسی بھی ٹیم کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایران کے مطابق ورلڈ کپ سے قبل اس کا تربیتی مرکز بھی تبدیل کیا گیا، جب کہ ویزا پابندیوں کے باعث ٹیم اور اس کے عملے کو امریکا آمد و رفت میں مشکلات پیش آئیں۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ایران نے گروپ مرحلے میں کوئی میچ نہیں ہارا، تاہم ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔