رونالڈو یا میسی کو ٹیم سے باہر کریں تو کیسا لگے گا؟ ٹرمپ کی فیفا کے فیصلے پر انوکھی منطق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے امریکی فارورڈ فولارن بیلوگن کو دکھائے گئے متنازع ریڈ کارڈ پر بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی کیونکہ ان کے خیال میں یہ فاؤل نہیں تھا۔
اوول آفس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فیفا صدر سے کہا تھا کہ بیلوگن کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ ان کے بقول، دونوں کھلاڑی صرف ایک دوسرے سے ٹکرائے اور اس دوران الجھ گئے تھے، لیکن یہ ایسا واقعہ نہیں تھا جسے سنگین فاؤل قرار دے کر ریڈ کارڈ دیا جاتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی اپنی ٹیم کو اسٹار کھلاڑیوں کے بغیر کھیلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کرسٹیانو رونالڈو، لیونل میسی یا ہیری کین کسی کھلاڑی سے ٹکرا جائیں اور انہیں ایک میچ کے لیے معطل کر دیا جائے تو یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہوگی۔
بیلجیئم کے خلاف میچ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے پاس اچھے کھلاڑی موجود ہیں اور فتح یا شکست کا فیصلہ میدان میں ہی ہونا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں فیفا نے بعد میں انتہائی شاندار فیصلہ کیا، تاہم اصل غلطی ریفری کے ابتدائی فیصلے میں تھی۔ ان کے بقول، لوگ صرف ریڈ کارڈ واپس لینے کی بات کر رہے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ ریفری نے ابتدا میں اتنا سخت فیصلہ کیوں دیا۔ انہوں نے ریفری کے فیصلے کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی پورے تنازع کی اصل وجہ تھی۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب امریکا کے اہم فارورڈ فولارن بیلوگن کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف ورلڈ کپ میچ میں وی اے آر جائزے کے بعد براہ راست ریڈ کارڈ دکھا کر ایک میچ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر سابق کھلاڑیوں، ماہرین اور شائقین نے اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر ضروری طور پر سخت قرار دیا۔
بعد ازاں فیفا نے اپنے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے بیلوگن کی معطلی ختم کر دی، جس سے وہ بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل کھیلنے کے اہل ہو گئے۔ اس فیصلے پر بیلجیئم فٹ بال ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ٹورنامنٹ کے قواعد کے خلاف قرار دیا اور ممکنہ قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔
اس سے قبل برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بیلوگن کی معطلی ختم کرانے کے لیے فیفا حکام سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا تھا۔ اب پہلی بار خود ٹرمپ نے تصدیق کر دی ہے کہ انہوں نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے اس معاملے پر بات کی تھی اور ریڈ کارڈ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔
















