اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملوں میں اسکول پرنسپل سمیت چار افراد شہید
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں اسکول پرنسپل سمیت چار افراد شہید ہوگئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے ایک سرحدی گاؤں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے نام نہاد سیکیورٹی زون کا حصہ قرار دے دیا۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ الفوقہ میں ایک گاڑی کو اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد شہید ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق شہداء میں ایک اسکول پرنسپل، ان کی والدہ، ایک غیر ملکی گھریلو ملازمہ اور ایک شامی شہری شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے سرحدی گاؤں حداثہ پر مکمل عملی کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور اس علاقے کو اپنے نام نہاد سیکیورٹی زون کا حصہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی کارروائیوں اور قبضے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی اور قبضہ لبنانی فوج کی مکمل تعیناتی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
صدر جوزف عون کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قبضہ نہ صرف لبنان کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ یہ امریکا کے ان مقاصد سے بھی متصادم ہے جن کے تحت خطے میں استحکام اور جنگ بندی کے نفاذ کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جبکہ حالیہ فضائی کارروائی نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے اعلان کیا ہے کہ وہ جولائی کے اختتام سے قبل امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں وہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مجوزہ فریم ورک پر پیش رفت کرنا ہے۔
لبنانی صدر نے روزنامہ ”النهار“ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اتوار کے روز 17 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جسے انہوں نے اچھی اور مثبت قرار دیا۔
جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل سے متعلق مجوزہ فریم ورک مثالی نہیں، تاہم موجودہ زمینی حقائق اور جنوبی لبنان میں طاقت کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے لبنانی حکومت نے اسے قبول کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں بلکہ صرف ایک فریم ورک ہے۔ کسی کو بھی لبنانی فوج میں تقسیم کی امید نہیں رکھنی چاہیے اور میں اپنے لوگوں کو مرنے نہیں دوں گا۔
لبنانی صدرعون نے واضح کیا کہ اس فریم ورک کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ لبنان اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائے گا۔ ان کے بقول، لبنان اپنے مقبوضہ علاقوں کی واپسی اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی انتظامات کی مرحلہ وار منتقلی کا آغاز جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ کے علاقے زوطر سے کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت مخصوص قصبوں میں صرف لبنانی فوج کو سیکیورٹی کی ذمہ داری دی جائے گی تاکہ اسرائیلی فوج مرحلہ وار ان علاقوں سے انخلا کر سکے۔
صدر عون کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل قریبی علی الطاہر پہاڑی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لبنانی حکام نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ علی الطاہر پہاڑی کو لبنانی فوج کے کنٹرول میں رکھنے کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں لبنان کی جانب سے وزیر کی شرکت کے حوالے سے صدر جوزف عون نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات برقرار ہیں اور انہیں ختم نہیں کیا گیا۔
لبنانی صدر کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا خطے میں جنگ بندی اور سیکیورٹی سے متعلق نئے انتظامات پر سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔













