بیرونی مالی معاونت کے بلند اہداف، حصول کتنا ممکن؟

.
شائع 14 جولائ 2026 01:46pm

وفاقی بجٹ برائے 27-2026 میں مجموعی بیرونی امداد (غیر ملکی فنڈز) کی مد میں 23.37 ارب امریکی ڈالر کی آمد کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ کی مختصر دستاویز میں یہ رقم پاکستانی روپے میں 6 ہزار 780 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

اس تخمینے کے لیے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا متوقع تبادلہ نرخ 290 روپے فی ڈالر رکھا گیا ہے، جس سے بیرونی امداد کا یہ تخمینہ 23.37 ارب ڈالر بنتا ہے۔ان بیرونی فنڈز میں سعودی عرب اور چین کی طرف سے جمع کرائے گئے ٹائم ڈپازٹس کا تسلسل بھی شامل ہے، جو 27-2026 میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر بنتے ہیں، جن میں سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں دیئے گئے مزید 3 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ چنانچہ ان ٹائم ڈپازٹس (معیادی امانتوں) کو نکال کر 27-2026 میں بیرونی امداد کی آمد کا کل ہدف 11.37 ارب ڈالر رہ جاتا ہے۔

اس تخمینے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ 27-2026 میں بیرونی فنڈز کی آمد میں ایک بہت بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ معیادی امانتوں کے بغیر 26 مئی تک 26-2025 کے لیے بیرونی فنڈز کی آمد کا ترمیمی تخمینہ 9.07 ارب ڈالر رہا ہے۔ اس لحاظ سے اگلے مالی سال (27-2026) کے لیے متوقع 11.37 ارب ڈالر کا ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ فنڈز کی آمد میں تقریباً 25 فیصد کی ریکارڈ شرحِ نمو کی توقع رکھی جا رہی ہے۔دوسری طرف 26-2025 کے دوران فنڈز کی آمد میں واضح کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ سال 25-2024 میں معیادی امانتوں کے بغیر کل بیرونی فنڈز 12.14 ارب ڈالر تھے، جس کا مطلب ہے کہ 26-2025 میں بیرونی امداد کی آمد میں 25.3 فیصد تک کی بڑی گراوٹ آئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 27-2026 کے بجٹ میں بیرونی فنڈز کے حوالے سے اتنی خوش فہمی کیوں ہے؟ کیا اس کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کا مسلسل تعاون ہے؟ لیکن آئی ایم ایف پروگرام تو 26-2025 میں بھی کامیابی سے چل رہا تھا، اس کے باوجود فنڈز کی آمد میں کمی دیکھی گئی۔کیا پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں اپنے انتہائی مفید سفارتی ثالثی کے کردار کے بعد عالمی برادری سے نئی اور اضافی امداد کی توقع ہے؟اس حوالے سے زیادہ معروضی اور غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ہو گا کہ ہم 25-2024 کے مقابلے میں 26-2025 کے دوران مختلف ذرائع سے آنے والے فنڈز میں تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ وزارتِ اقتصادی امور نے 26-2025 کے لیے مختلف فنڈز کے جو اہداف مقرر کیے تھے ان کے اصل فنڈز سے فرق کو جانچنے کی ضرورت ہے۔

ٹائم ڈپازٹس کی تجدید یا نئے فنڈز کے علاوہ پاکستان کے پاس بیرونی امداد حاصل کرنے کے پانچ بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں دو طرفہ (دو ممالک کے درمیان) اور کثیر طرفہ (بین الاقوامی اداروں جیسے عالمی بینک وغیرہ سے) فنڈز، بانڈز جاری کرکے حاصل ہونے والے خالص فنڈز، بین الاقوامی تجارتی (کمرشل) بینکوں سے لیے جانے والے قرضے اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے آنے والا پیسہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جب آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہو تو اس ذریعے سے بھی فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔سال 26-2025 میں دو طرفہ فنڈز اپنے ہدف کے کافی قریب رہے ہیں۔ تاہم اس کی مجموعی مالیت محض 1.32 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 1.00 ارب ڈالر سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت کے ہیں۔ ایک دہائی قبل ایسا دور بھی تھا جب سی پیک کے تحت چین سے بڑے پیمانے پر دو طرفہ فنڈز پاکستان آتے تھے۔

کثیر طرفہ فنڈنگ آسان شرائط پر قرض (رعایتی مالی اعانت) کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ ہے۔ تاہم سال 26-2025 میں اس ذریعے سے حاصل ہونے والے فنڈز میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ 26-2025 کے لیے اس کا ہدف تقریباً 5 ارب ڈالر تھا، کیونکہ 25-2024 میں اصل فنڈز 4.8 ارب ڈالر رہے تھے۔ لیکن 26-2025 کے پہلے گیارہ مہینوں میں کثیر طرفہ ذرائع سے صرف 3.1 ارب ڈالر حاصل ہو سکے، جو ہدف سے تقریباً 38 فیصد کم ہیں۔سب سے بڑی گراوٹ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے آنے والے فنڈز میں ہوئی، جو روایتی طور پر آسان شرائط پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرنے والے بڑے ادارے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والی امداد ہدف سے 53 فیصد کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی بینک سے ملنے والے فنڈز میں 10 فیصد کی کمی متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈز میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی اس بڑی کمی کے اسباب کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

سال 26-2025 میں بانڈز کی فروخت کے ذریعے 40 کروڑ (0.4) ارب ڈالر کے قرض کا ہدف تھا اور کامیابی کا ایک اہم اشارہ یہ ہے کہ اس مد میں اصل رقم 1 ارب ڈالر تک حاصل کی گئی ہے۔ چین میں پانڈا بانڈز کے اجراء کا عمل کامیابی سے شروع ہو چکا ہے۔سال 26-2025 کی دوسری بڑی ناکامی بین الاقوامی تجارتی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں میں دیکھی گئی۔ 25-2024 میں تجارتی بینکوں سے 4.3 ارب ڈالر کے بھاری قرضوں کے بعد 26-2025 کے لیے اس کا ہدف 3.1 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا مگر حیرت انگیز طور پر 26 مئی تک بیرونی تجارتی بینکوں نے پاکستان کو صرف 20 کروڑ (0.2) ارب ڈالر کا قرضہ دیا۔ اس بڑی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی چل رہا ہے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی پورے سال 26-2025 کے دوران جون 2025 کے 14.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں بہتر رہے ہیں اور سال کے اختتام پر 16.5 ارب ڈالر پر موجود ہیں۔

پاکستان کی مالی ساکھ اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت میں بہتری کے باوجود عالمی تجارتی بینکوں کا پاکستان کو قرض دینے سے گریز کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا گہرا تجزیہ لازمی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کثیر طرفہ فنڈز میں بھی کمی کا سامنا تھا، پاکستان کو اس تجارتی فنڈنگ کی سخت ضرورت تھی۔آخری اہم ذریعہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہے۔ یہ بیرونی فنڈز کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ 26-2025 کے دوران اس اسکیم میں 2.5 ارب ڈالر کے فنڈز آئے، جبکہ 25-2024 میں یہ حجم 1.9 ارب ڈالر تھا اور اس کا بجٹ ہدف حیرت انگیز طور پر محض 60 کروڑ (0.6) ارب ڈالر رکھا گیا تھا۔مجموعی طور پر معیادی امانتوں کے تسلسل کو نکال کر 26-2025 میں پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی فنڈز کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ بجٹ ہدف 10.9 ارب ڈالر تھا۔ یہ حجم 25-2024 کے اصل فنڈز کے مقابلے میں 32 فیصد تک کی بڑی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔اس ناکامی کے باوجود وزارتِ خزانہ نے معیادی امانتوں کے بغیر 27-2026 کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی امداد کا ہدف مقرر کیا ہے، جو 26-2025 کی اصل سطح سے 15 فیصد سے بھی زیادہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اس بڑھے ہوئے ہدف کی بظاہر وجہ بیرونی قرضوں کی واپسی کی ادائیگیوں کا بوجھ ہے، جس کے 12 ارب ڈالر سے یکدم بڑھ کر 19.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے، بشرطیکہ کچھ معیادی امانتوں کی واپسی کی مدت پوری ہو جائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے جمع کرائے گئے فنڈز کے ساتھ ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کمی کو سعودی عرب کی جانب سے امانتوں میں اضافے کے ذریعے سنبھال لیا گیا تھا۔

پاکستان اس وقت بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں 27-2026 میں ادائیگیوں کا توازن دوبارہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دو طرفہ، کثیر طرفہ اور بیرونی تجارتی بینکوں کے ذرائع سے بڑے فنڈز کا حصول یقینی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا، خاص طور پر اگلے سال آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے بعد حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔


نوٹ: یہ تحریر 14 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔