بھارت میں 20 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چُک زبردستی اسپتال منتقل
بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگ چُک کو 21 روز تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال کے بعد ہفتے کی صبح نئی دہلی کے جنتر منتر سے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کی اچانک منتقلی نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ان کی اہلیہ نے اسپتال انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر سونم وانگ چُک کو کسی قسم کی دوا یا طبی محلول نہ دیا جائے۔
59 سالہ سونم وانگ چُک گزشتہ 28 جون سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ وہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور قومی سطح کے امتحانات میں پیپر لیک سمیت دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نامی آن لائن احتجاجی تحریک کی حمایت کر رہے تھے۔ اس دوران وہ صرف نمک اور پانی استعمال کر رہے تھے اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا وزن 9 کلوگرام سے زیادہ گر چکا تھا اور وہ شدید تکلیف میں تھے۔
مظاہرین نے پیر کے روز بھارتی پارلیمنٹ کی جانب پرامن مارچ کا اعلان بھی کر رکھا تھا، جس میں سونم وانگ چُک نے اپنی کمزور جسمانی حالت کے باوجود شرکت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
ہفتے کی صبح سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد کو احتجاجی مقام پر پہنچتے دیکھا گیا۔ اہلکاروں نے سونم وانگ چُک کو چادروں کے پردے میں چھپا کر اسٹیج سے اٹھایا اور ایمبولینس کے ذریعے صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض مظاہرین نے مزاحمت کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے ہٹا دیا۔ اس کارروائی کے دوران تحریک کے بانی ابھیجیت دیپک کو بھی پولیس نے ایک دوست کے گھر پر نظربند کر دیا اور باہر نکلنے سے روک دیا۔
رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر سچن شرما نے اس کاروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگ چُک کو ان کی صحت کے پیش نظر طبی ماہرین کے مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، ”سونم وانگ چُک کو ضروری طبی علاج کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور اس وقت وہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔“
واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ سونم وانگ چُک کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔
دوسری طرف سونم وانگ چُک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے اسپتال انتظامیہ کو اپنے شوہر کو کوئی بھی دوا یا خوراک دینے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔
صفدر جنگ اسپتال سے انٹرنیٹ پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میری، ہمارے خاندان اور ان ڈاکٹروں کی اجازت کے بغیر جو پچھلے بیس دنوں سے ان کی صحت کی نگرانی کر رہے ہیں، میرے شوہر کو منہ کے ذریعے یا سوئی کے ذریعے کچھ بھی نہ دیا جائے۔
انہوں نے ہسپتال لانے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دن پہلے تک بالکل ٹھیک تھے اور انہیں اسپتال لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ قانون کے تحت یہ میرا آئینی حق ہے اور میری مرضی کے بغیر انہیں کوئی چیز نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ یہ احتجاجی تحریک مئی میں میڈیکل کے داخلہ امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر شروع ہوئی تھی جس میں اب کئی طالب علم تنظیمیں بھی شامل ہو چکی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان امتحانات میں ہونے والی گڑبڑ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کریں اور اپنے عہدے سے فوری استعفیٰ دیں۔
دوسری طرف وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اس تحریک کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک میں افراتفری پھیلانے والے عناصر کا گروہ قرار دیا ہے اور حکومت نے ابھی تک مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ تاہم اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی طرف سے حکومت پر بات چیت کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی احتجاجی مقام پر جا کر سونم وانگ چُک سے ملاقات کی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے مظاہرین کی بات سنیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے پیر کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا جائے گا یا نہیں، تاہم سونم وانگ چُک کی موجودہ طبی حالت کے پیش نظر ان کی اس میں شرکت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔













