'جج کو کیسے مارا جائے؟' کتاب کا مصنف خود ججوں کو دھمکیاں دینے کے جرم میں گرفتار

مجرم نے 236 صفحات پر مشتمل ایک تحریر تیار کی تھی جس کا عنوان ’وفاقی جج کو کیسے قتل کیا جائے‘ تھا: خبر ایجنسی
شائع 09 اگست 2026 09:19am

امریکی ریاست مینیسوٹا میں وفاقی عدالت نے 73 سالہ شخص رابرٹ فلپ آئیورز کو وفاقی ججوں کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینٹ پال، مینیسوٹا میں وفاقی جیوری نے رابرٹ آئیورز کو تینوں الزامات میں قصوروار قرار دیا۔ ان میں دھمکی آمیز پیغامات ڈاک کے ذریعے بھیجنا اور ایک وفاقی جج کو قتل کرنے کی دھمکی دینا شامل ہے۔

استغاثہ کے مطابق آئیورز نے 236 صفحات پر مشتمل ایک تحریر تیار کی تھی جس کا عنوان ’وفاقی جج کو کیسے قتل کیا جائے‘ تھا۔ حکام نے اس تحریر کو ایک منشور قرار دیا، جس میں وفاقی عدلیہ سے وابستہ کئی افراد اور ججوں کے نام بھی شامل تھے۔

حکام کے مطابق آئیورز اس سے قبل بھی ایک وفاقی جج کو قتل کرنے کی دھمکی دینے کے جرم میں سزا پا چکے ہیں۔ انہیں 2019 میں جج ولہیلمینا رائٹ کو قتل کرنے کی دھمکی دینے کے جرم میں 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

موجودہ مقدمے کے مطابق وفاقی استغاثہ کو آئیورز کے خلاف اس وقت کارروائی کا موقع ملا جب مینیسوٹا کے شہر ویزاٹا کی ایک لائبریری کے عملے نے انہیں اپنی تحریر کی نقول پرنٹ کرتے اور دوسروں کو دکھاتے ہوئے دیکھا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ آئیورز نے لائبریری کے عملے کو تین صفحات پر مشتمل ایک فلائر بھی دیا تھا۔ اس میں اس کتاب کو ایک ایسی رہنما تحریر قرار دیا گیا تھا جو شدت پسندوں کو یہ سکھانے کے لیے بنائی گئی ہے کہ ججوں، ان کے خاندان کے افراد، سیاست دانوں اور دیگر لوگوں کی منصوبہ بندی، تربیت، تلاش، تعاقب اور قتل کیسے کیا جائے۔

بعد ازاں حکام نے آئیورز کی گاڑی کی تلاشی لی تو وہاں سے ان کی تحریر کی 20 سرپل بائنڈنگ والی نقول بھی برآمد ہوئیں۔ استغاثہ کے مطابق اس دستاویز میں متعدد افراد اور ججوں کے نام درج تھے۔

ان ناموں میں آئیووا سے تعلق رکھنے والے امریکی ضلعی جج رابرٹ پراٹ بھی شامل تھے، جو جنوری میں انتقال کر گئے۔ جج پراٹ نے 2019 میں آئیورز کے خلاف مقدمے کی سماعت کی تھی۔ مینیسوٹا کے ججوں کے مقدمے سے الگ ہونے کے بعد یہ مقدمہ جج پراٹ کے سامنے چلایا گیا تھا، جس میں آئیورز کو جج ولہیلمینا رائٹ کو قتل کرنے کی دھمکی دینے پر سزا سنائی گئی تھی۔

موجودہ فردِ جرم کے مطابق آئیورز نے جج پراٹ کے علاوہ اُس وکیل کو بھی دھمکی دی تھی جس نے 2019 کے مقدمے میں جج رائٹ کو قتل کرنے کی آئیورز کی دھمکی سننے کی گواہی دی تھی۔

استغاثہ کے مطابق آئیورز کی تحریر کی ایک نقل مذکورہ وکیل کی قانونی فرم کو ڈاک کے ذریعے بھیجی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئیورز نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ اس نے یہ تحریر دونوں ججوں کے علاوہ امریکی سپریم کورٹ کے تمام نو ججوں کو بھی بھیجی تھی۔

اس مقدمے میں ابتدا میں ایک سپریم کورٹ کے جج کو قتل کرنے کی دھمکی دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا، تاہم بعد میں یہ الزام ختم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب آئیورز کے اُس وقت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ نے اس بارے میں اپنا مؤقف تبدیل کر دیا تھا کہ مبینہ دھمکی چیف جسٹس جان رابرٹس کو دی گئی تھی یا جسٹس نیل گورساچ کو۔

امریکی مارشل سروس کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران اب تک وفاقی عدلیہ کے 299 مختلف ججوں کو دھمکیوں کی اطلاعات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی ججوں کو دھمکیوں میں اضافہ ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔

آئیورز کو ستمبر 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے سرکاری طور پر مقرر کردہ وکیل نے فیصلے کے بعد فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔