صدر پیوٹن کا روس کے زیرِ انتظام متنازع جزیرے کا دورہ، جاپان کا شدید احتجاج

'ایتوروپ' جزیرہ تاریخی اور بین الاقوامی قانون کے تحت جاپان کاعلاقہ ہے، روسی صدر کا دورہ ناقابلِ قبول ہے: جاپانی وزیراعظم
شائع 13 اگست 2026 07:30pm

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جاپان کے قریب واقع ایک متنازع جزیرے کا دورہ کیا ہے، جس پر جاپان نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ جاپان کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے اس عمل سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔ جاپان روس کے زیرِ انتظام ’اِتوروپ‘ سمیت چار جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

جاپان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے جمعرات کے روز ’اِتوروپ‘ جزیرے کے دورے پر سخت احتجاج کیا ہے۔یہ جزائر دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل عرصے سے شدید سرحدی اور سفارتی تنازع کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

‘ایتوروپ‘ کوریل سلسلے کے اُن چار جزائر کا حصہ ہے جسے جاپان ’شمالی علاقہ جات‘ کا نام دیتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم سے قبل یہ چاروں جزائر جاپان کے زیرانتظام تھے تاہم جاپان کی شکست کے بعد سوویت یونین نے ان جزائر پر قبضہ کرلیا تھا۔

 اس نقشے میں کوریل جزائر کا جغرافیہ اور روس اور جاپان سے فاصلہ دیکھا جاسکتا ہے
اس نقشے میں کوریل جزائر کا جغرافیہ اور روس اور جاپان سے فاصلہ دیکھا جاسکتا ہے

جاپان آج بھی ان جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ٹوکیو کا مؤقف ہے کہ امن معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوسکتے ہیں تاہم وہ روس کے ساتھ باضابطہ امن معاہدہ طے کرنے کےلیے ان جزائر کی واپسی کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔

جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے ٹیلی وژن اور بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں روسی صدر کے دورے کی مذمت کی ہے۔

سانائے تاکائیچی نے کہا کہ صدر پیوٹن نے جنوری 2024 میں ان متنازع جزائر کے دورے کا اعلان کیا تھا جس پر جاپانی حکومت نے روس سے صدر پیوٹن کو شمالی علاقوں کا دورہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

جاپانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن کا ایتوروپ جزیرے کا دورہ انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے اور جاپان اس پر سخت احتجاج کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شمالی جزائر تاریخی اعتبار سے اور بین الاقوامی قانون کے تحت بھی جاپان کے علاقے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کے بعد جاپان نے روس سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے تاہم روسی صدر کا ایتوروپ کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

سانائے تاکائیچی نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ روسی حکومت اس معاملے کی سنگینی کو پوری طرح سمجھے گی۔

صدر پیوٹن کا اس متنازع جزیرے کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کو 81 سال مکمل ہوچکے ہیں۔

حالیہ عرصے میں روس اور جاپان کے تعلقات میں اس وقت شدید تناؤ پیدا ہوا تھا جب صدر پیوٹن نے 2022 میں یوکرین پر حملے کا حکم دیا تھا۔ جس کے جواب میں امریکا اور یورپی ممالک کی طرح جاپان نے بھی ماسکو پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

صدر پیوٹن نے ’اِتوروپ‘ جزیرے کے دورے کے دوران واقع فِش پروسیسنگ پلانٹ کا دورہ کیا جہاں حکام نے انہیں ماہی گیری اور سمندری حیات سے متعلق بریفنگ دی۔

روسی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں صدر پیوٹن کو کو گہرے رنگ کے سوٹ میں حکام کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

روسی سرکاری خبر رساں ادارے ’ٹاس‘ کے مطابق یہ صدر پیوٹن کا ان متنازع کوریل جزائر کا پہلا دورہ تھا۔روس کے پہلے صدر دمتری میدویدیف 2010 میں متنازع کوریل جزائر کا دورہ کرنے والے پہلے روسی رہنما تھے۔