امریکا ایران عبوری معاہدے کی ڈیڈلائن میں توسیع پر اتفاق کا دعویٰ، تہران کی تردید
ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران نے جون میں طے پائے گئے مجوزہ عبوری معاہدے کی ڈیڈلائن میں مزید ساٹھ روز کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے۔
ترک خبر رساں ایجنسی ’اناطولو‘ کے مطابق، مجوزہ معاہدے کی ڈیڈلائن 21 اگست کو ختم ہو رہی ہے، اور اس معاہدے میں پاکستان انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم، دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری معاہدے کو بحال کرنے اور اس پر عمل درآمد کا وقت متعین کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
معاہدے کی ڈیڈلائن میں توسیع کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ توسیع کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کیونکہ ایران کے نقطہ نظر سے ابھی کسی ایسے وقت کا آغاز ہی نہیں ہوا جس میں توسیع کی جائے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ سچ تو یہ ہے امریکا نے عبوری معاہدے پر دستخط کے محض 48 گھنٹے بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی اور چند ہی دنوں بعد اس سے پیچھے ہٹ گیا۔
یاد رہے کہ جون میں ہونے والے اس عبوری معاہدے میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روکنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہو گیا کیونکہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات جولائی کو اسے ختم قرار دیا اور اس کے ایک ہفتے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے اسے معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکا کا الزام ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو کھولنے کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور اس کے منجمد اثاثے بحال کرنے جیسے اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے۔
عالمی سطح پر جاری ان سفارتی کوششوں کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر ایک بار پھر شدید تنقید کرتے ہوئے بحران کے حل کی امیدوں کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے اور عمل کچھ نہیں، وہ اب مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش نہیں رہا۔
اس سے قبل انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، لیکن ایرانی متبادل اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ بحری راستہ اس وقت تک بند رہے گا جب تک ایران کی تمام شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں۔
رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کی بڑی تعداد ایران اور لبنان میں ہے۔
جواب میں ایران نے بھی عمان، اردن، کویت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اس جنگ کی وجہ سے دنیا میں تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ آبنائے ہرمز بند ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور ایک وقت میں تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
منگل کے روز بھی خلیج عمان میں بحری جہازوں پر حملے اور امریکی ہیلی کاپٹر کی فائرنگ کے نئے واقعات سامنے آئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امن کے امکانات بدستور مبہم نظر آتے ہیں۔












