میر رضا کے وکیل جبران ناصر تنقید کی زد میں کیوں؟

پولیس اور صوبائی حکومت پر غفلت اور شواہد ضائع کرنے کے الزامات کے بعد میر رضا کے وکیل جبران ناصر کے خلاف تنقیدی مہم شروع ہوچکی ہے۔
شائع 12 اگست 2026 06:17pm

میر رضا علی کیس کی پُراسرار موت کی تحقیقات میں روزانہ نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ میر رضا کے وکیل جبران ناصر کی جانب سے حکومت اور پولیس پر تنقید اور تحقیقات میں غفلت برتنے کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقیدی مہم شروع ہوچکی ہے۔

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کو تقریباً 14 روز گزر چکے ہیں۔ اہل خانہ کی جانب سے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کے بعد اب اس کیس کی تحقیقات نئی ٹیم کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب معروف سماجی کارکن اور میر رضا کے وکیل جبران ناصر سندھ پولیس پر مسلسل کیس میں لاپرواہی، سنگین غفلت برتنے اور واقعے کو خودکشی قرار دینے کے لیے پروپیگنڈا کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

جبران ناصر نے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیشی کے بعد قبر کشائی سے حاصل نمونے لیبارٹری نہ پہنچانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے سابقہ تفتیشی ٹیم کی جانب کیس کو خراب کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا اور سندھ حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے 29 جولائی کو میر رضا کی لاش ملی تھی، جس کے بعد سندھ پولیس کی 3 رکنی ٹیم نے کیس کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد پولیس واقعے کو مسلسل خودکشی کا رنگ دیتی رہی تاہم والدین کے اصرار اور پولیس سرجن کے اعتراضات کے بعد عدالتی حکم کے مطابق میر رضا کی قبرکشائی کی گئی۔

میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد اہل خانہ اور پولیس سرجن کے اعتراضات درست ثابت ہوئے اور میر رضا کی موت قتل کے سبب ہونے کے امکانات کو تقویت ملی۔ جس کے بعد پولیس نے نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جو اب اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

جبران ناصر نے دعویٰ کیا ہے کہ میر رضا کی اسمارٹ واچ اس کیس کا ایک واحد ثبوت تھی، نئی تفتیشی ٹیم نے یہ اسمارٹ واچ طلب کی تو دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ سابقہ تفتیشی ٹیم کے رکن ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو اس اہم ترین ثبوت کو جیب میں لے کر گھومتے رہے جب کہ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر (ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر) فیروزآباد تھانے کے ایس ایچ او گاڑی میں لیے پھر رہے تھے۔

جبران ناصر اور میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے سندھ حکومت پر تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر جبران ناصر کے خلاف تنقیدی مہم تیز ہوتی نظر آرہی ہے، جس میں ان پر تعصب اور میر رضا کیس کو پیپلزپارٹی کی مخالفت میں استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے حامی ایک صارف نے سابق تفتیشی ٹیم سے وابستہ پولیس افسر پر کیس کے ثبوتوں کو ضائع کرنے کے الزام پر جبران ناصر کو متعصب قرار دیا اور متعلقہ افسر کو الزام غلط ثابت ہونے کی صورت میں لیگل نوٹس بھجوانے کا مشورہ بھی دیا۔

میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور وکیل جبران ناصر کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز کو مسترد کرچکے ہیں۔

اس معاملے پر جبران ناصر کا کہنا تھا کہ میر رضا کے اہل خانہ کو عدالت پر مکمل اعتماد ہے تاہم ضرورت پڑی تو اہل خانہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

جبران ناصر کے اسی ویڈیو کلپ کو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’جبران ناصر پاناما کیس میں عدالتی کمیشن اور مانیٹرنگ جج کی تعریف کر رہے تھے، آج اس عمل سے مطمئن نہیں ہیں، یہ کیسی منافقت ہے؟‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ہی ایک صارف نے جبران ناصر پر ہمیشہ پیپلزپارٹی کی مخالفت کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیس کوئی بھی ہو، جبران ناصر پیپلزپارٹی کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے‘۔

واضح رہے کہ جبران ناصر معروف قانون دان اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہونے کے علاوہ سیاست میں بھی سرگرم رہے ہیں تاہم سیاسی و سماجی کاموں سے زیادہ سول سوسائٹی کے مظاہروں کی قیادت اور معروف کیسز کی پیروی ان کی وجہ شہرت بنی۔

کراچی میں شاہ زیب نامی نوجوان کے قتل کے ہائی پروفائل کیس میں جب مقتول کے والدین نے دباؤ یا صلح کے تحت بااثر قاتل شاہ رخ جتوئی کو معاف کیا تو جبران ناصر نے سول سوسائٹی کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ میں اس معافی کے خلاف درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے کیس کو دوبارہ فعال کیا تھا۔

جبران ناصر نقیب اللہ محسود کیس میں بھی متحرک نظر آئے اور مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے کیس میں آواز اٹھانے کے علاوہ خاندان کو قانونی مشاورت دینے میں بھی پیش پیش رہے۔

کراچی سے لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ نامی بچی کے والدین نے بھی جبران ناصر کو اپنا وکیل مقرر کیا تھا جنہوں نے قانونی جنگ جیت کر والدین کو بچی کی حوالگی میں مدد کی تھی۔

اس کے علاوہ کراچی کے علاقے کارساز میں تیز رفتار لگژری گاڑی کی ٹکر سے باپ بیٹی کی ہلاکت کے ہائی پروفائل کیس میں بھی جبران ناصر متحرک رہے اور متاثرہ خاندان کی قانونی معاونت اور ملزمہ سے تفتیش میں شفافیت کے لیے بھی آواز اٹھاتے نظر آئے۔

جبران ناصر ایک مرتبہ پھر ایسے کیس کی پیروی کررہے ہیں جو اب ہائی پروفائل کیس بن چکا ہے اور وہ اس کیس میں خرابی پیدا کرنے کا ذمہ دار پولیس اور صوبائی حکومت کو قرار دے رہے ہیں۔

منگل کی شب میر رضا کے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت میری پریس کانفرنسز پر غصہ اور صحیح کام کرنے والے افسروں پر تنقید کے بجائے کیس کی درست تحقیقات پر زور دے۔‘

جبران ناصر کی میڈیا سے گفتگو کا نامی صارف نے ایکس پر میر رضا کیس سے متعلق جبران ناصر کی پریس کانفرنس کا کلپ شیئر کیا تو اس پر بھی چند اکاؤنٹس کی جانب سے کی گئی تنقید دیکھی جاسکتی ہے۔

ایک صارف نے الزام عائد کیا کہ ’جبران ناصر میر رضا کیس کو سیاسی رنگ دینے کے لیے متحرک ہیں اور متعلقہ فورمز پر مقدمہ لڑنے کے بجائے مسلسل ٹی وی پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم تفتیشی ٹیم کیس کی تحقیقات میں مصروف ہے، جس پر میر رضا کے اہلِ خانہ نے بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اس کیس کی تازہ ترین پیش رفت کے مطاق پہلی ابتدائی رپورٹ جاری کرنے والے جناح اسپتال میں تعینات میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اسامہ اب تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے جہاں ان سے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں غلطیوں سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی۔